بی جے پی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر انہیں حاشیے پر ڈال دیتی ہے: کپل سبل

کپل سبل نے کہا کہ ’’بی جے پی صرف اپنا فائدہ دیکھتی ہے۔ جہاں انہیں فائدہ ہوتا ہے وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے اور بعد میں انہیں پارٹیوں کو حاشیے پر ڈال دیتی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخاب کے نتائج آ چکے ہیں۔ بی جے پی نے اس انتخاب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس انتخاب پر پورے ملک کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس درمیان سابق کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن سمیت مہاراشٹر کے 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں، جو مہاراشٹر اور قومی سطح پر ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے کچھ اشارے پیش کرتے ہیں۔

اتوار (18 جنوری) کو ایک انٹرویو کے دوارن کپل سبل نے کہا کہ اس انتخاب میں سب کا نقصان ہوا صرف بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی ایک حکمت عملی رہی ہے، پہلے پاس اس کے بعد بنواس۔ بی جے پی کو جن ریاستوں میں لگتا ہے کہ وہ وہاں کمزور ہے اور اسے وہاں ووٹ نہیں ملیں گے، وہ جیت نہیں پائے گی تو وہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد انہیں حاشیہ پر ڈھکیل دیتی ہے۔ جیسے ہریانہ میں لوک دَل کے ساتھ کیا۔‘‘


راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کا کانگریس کے ساتھ براہ راست مقابلہ ہے جیسے اترپردیش میں، وہاں پارٹی کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو بالواسطہ طور پر کرتی ہے۔ دھکمی دے کر یا ای ڈی وغیرہ کو پیچھے لگا کر ایسے میں یہ پارٹیاں بی جے پی کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ بہار میں بی جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا اور بڑی پارٹی بن گئی بعد میں جے ڈی یو کو حاشیہ پر رکھ دیا۔

کپل سبل کا کہنا ہے کہ اب بی جے پی تمل ناڈو میں بھی یہی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہاں کی سیاست مختلف ہے۔ وہاں وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے اب مندر کی سیاست شروع کر دی ہے۔ وہاں کے پنڈتوں کو اترپردیش لے جاتے ہیں، اس طرح سے یہ لوگ وہاں مندر کی سیاست کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگال میں بی جے پی کے ساتھ کوئی نہیں جائے گا تو انہیں براہ راست انتخاب لڑنا ہوگا۔ کیرالہ میں بھی ان کے ساتھ کوئی نہیں وہاں بھی انہیں پریشانی ہوگی۔


کپل سبل کے مطابق بی جے پی صرف اپنا فائدہ دیکھتی ہے۔ جہاں انہیں فائدہ ہوتا ہے وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے اور بعد میں انہیں پارٹیوں کو حاشیے پر ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشارہ اپوزیشن کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ سمجھوتہ کرے گی تو آپ اقتدار میں تو آ جاؤ گے، آپ نائب وزیر اعلیٰ تو بن جاؤ گے لیکن آپ کا مستقبل ختم ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، آج ان کا کیا مستقبل ہے۔

راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے کہا کہ عوام بھی اس طرح کی سیاست نہیں چاہتی، پہلے آپ کسی اور کے ساتھ رہو اور بعد میں کسی اور کے ساتھ ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار جو کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کیے صرف 3 سیٹوں تک ہی محدود رہ گئے۔ اس سے اجیت پوار کو نقصان ہوا اور انہوں نے اپنا مستقبل برباد کر لیا۔ کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ ایکناتھ شندے کے ساتھ بھی اب یہی ہو رہا ہے، انہیں اپنے کونسلروں کو ہوٹل میں رکھنے پڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بی جے پی توڑ لیتی ہے اور خرید لیتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوگ جانتے ہیں موقع پرست سیاست کب کی جاتی ہے، ایسے میں ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔