پاکستان مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ملانے کی کوششیں تیز!

مودی کابینہ میں وزیر جتندر سنگھ نے پاکستان مقبوضہ کشمیر کے سلسلے میں کہا کہ ’’یہ صرف میری یا میری پارٹی کا عزم نہیں ہے بلکہ 1994 میں پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت بھی یہی سوچتی تھی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے منگل کے روز واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد ہمارا اگلا ایجنڈا پاکستان کے قبضے والے کشمیر کو ہندوستان میں ملانا ہے۔ مودی حکومت میں وزیر جتندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور پاکستان نے اس پر غلط طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ملانے کا فیصلہ صرف ہماری پارٹی یا ہماری حکومت کا نہیں ہے، بلکہ 1994 میں کانگریس حکومت نے بھی اس عزم کا اظہار کیا تھا۔

جتندر سنگھ نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے سلسلے میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’یہ صرف میری یا میری پارٹی کا عزم مصمم نہیں ہے بلکہ یہ 1994 میں پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی سابقہ کانگریس حکومت کے ذریعہ اتفاق رائے سے پاس ریزولیوشن بھی ہے۔ یہ ایک متفقہ رخ ہے۔‘‘

دفعہ 370 کی بیشتر سہولتوں کو ختم کرنے پر پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی منفی مہم پر بی جے پی کے وزیر جتندر سنگھ نے کہا کہ دنیا کا رخ ہندوستان کے حق میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کچھ ملک جو ہندوستان کے رخ سے متفق نہیں تھے، اب وہ بھی ہمارے رخ سے متفق ہیں۔‘‘

انٹرنیٹ خدمات بند رکھنے کے بارے میں وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت جتندر سنگھ نے کہا کہ ’’ہم اسے جلد از جلد بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ایک کوشش کی گئی تھی لیکن سوشل میڈیا پر فرضی ویڈیو ڈالا جانے لگا اور فیصلے کا دوبارہ تجزیہ کرنا پڑا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ حکومت ان پابندیوں کو ختم کرنے اور انٹرنیٹ پر روک ہٹانے کی خواہشمند ہے۔ دہشت گردوں کے ذریعہ عام لوگوں کے قتل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔