جمہوری ملک میں لوگوں پر نہیں تھوپ سکتے سی اے اے قانون: بی جے پی رہنما بوس

سی کے بوس نے کہا کہ میں نے اپنے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ہم تھوڑی سی ترمیم کرتے ہیں تو یہ تحریک ختم جائے گی، ہمیں سی اے اے میں مذہب کا ذکر نہیں کرنا چاہیے، ہمارا نقطہ نظر مختلف ہونا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت جاری ہے، مظاہرہ کر رہے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ مرکز کی مودی حکومت اس قانون کو واپس لے، لیکن مودی حکومت اپن بات پر اڑی ہوئی ہے، نہ تو وہ اس قانون کو واپس لے رہی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی بدلاؤ کرنے کو تیار ہے۔ عالم یہ ہے کہ اب بی جے پی کے اندر بھی سی اے اے کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے، اس کی تازہ مثال ہے، بی جے پی کے سینئر لیڈر سی کے بوس، سی کے بوس نے سی اے اے کو لے کر اپنی پارٹی کو آئینہ دکھایا ہے۔

شہریت ترمیم قانون کو لے کر ہو رہی مخالفت پر بی جے پی لیڈر سی کے بوس نے کہا، "میں نے اپنے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ہم تھوڑا سا ترمیم کرتے ہیں تو یہ تحریک ختم جائے گی، ہمیں خاص طور سے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ مظلوم اقلیتوں کے لئے بھی ہے، ہمیں اس قانون میں کسی مذہب کا ذکر نہیں کرنا چاہیے، ہمارا نقطہ نظر مختلف ہونا چاہیے‘‘۔

سی کے بوس نے مزید کہا کہ بل جب قانون بن جاتا ہے تو یہ ریاستی حکومتوں کو مجبوراً اسے لگو کرنا ہوتا ہے، یہ ایک قانونی حیثیت ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک جمہوری ملک میں آپ ملک کے شہریوں پر کوئی بھی قانون مسلط نہیں سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ ہم صحیح ہیں اور وہ غلط ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ آپ کسی کو گالی نہیں دے سکتے ہیں، آج ہمارے پاس نمبر ہے، صرف اس لئے ہم خوف کی سیاست نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سی اے اے کے فوائد کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں‘‘۔

next