بی جے پی کو خود دہلی اسمبلی انتخاب میں جیت کی امید نہیں!

منفی طرز تشہیر نے بی جے پی کو لے کر سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں مودی کے نام پر ووٹ دینے والے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ اس بار کچھ الگ سوچ رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف جاری زبردست مظاہروں کے درمیان دہلی اسمبلی انتخاب کی تشہیر کے لیے ’جھونک‘ دئیے گئے بی جے پی کے کئی اراکین پارلیمنٹ کا خود کا اندازہ ہے کہ بھلے ہی ان کی پارٹی کو سیٹیں نہیں ملیں گی، لیکن ووٹ فیصد ضرور بڑھ رہا ہے۔ ان میں سے کئی اراکین پارلیمنٹ پرائیویٹ گفتگو میں اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ہماری پارٹی کی سب سے بڑی کمزوری ہے دہلی میں تنظیم کا نہ ہونا اور گروپ بندی، جس کی وجہ سے حالت دگر گوں ہوئی ہے۔‘‘

دہلی کی سیاست سے باہر ہوئے بی جے پی کو دو دہائی پورے ہو چکے ہیں۔ ان برسوں میں قومی لیڈروں کے آگے پیچھے گھوم کر ان کا ’پچھ لگّو‘ بننے اور ٹکٹ حاصل کرنے کا کلچر بی جے پی کیڈر میں اتنی تیزی سے دہلی میں آگے بڑھا ہے کہ کارکنان کو سیاست مین راتوں رات ترقی کرنے کا یہی ایک آسان راستہ دکھائی پڑا۔ بی جے پی کارکنان اس بار بھی ٹکٹ فروخت کیے جانے کا الزام کھل کر لگا رہے ہیں۔

بی جے پی کی اندرونی خبر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تقریباً ایک درجن سیٹوں پر ٹکٹ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی فروخت کیے گئے ہیں۔ پارٹی کے محنتی اور ایماندار کارکنان کو درکنار کرنے اور اوپری پہنچ کی بنیاد پر زمینی پہچان نہ رکھنے والے امیدوار اتار دئیے گئے۔

دہلی میں ان دنوں بی جے پی کی تشہیر میں مصروف ایک سرگرم پارٹی لیڈر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ ’’اس بار بھی کم و بیش 2015 جیسے حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں، جب بی جے پی کو 70 رکنی اسمبلی میں محض 3 سیٹیں ہی نصیب ہو سکی تھیں۔‘‘ بی جے پی کی تنظیمی ناکامی کے یہ حالات تب ہیں جب دہلی کے تینوں میونسپل کارپوریشنوں، این ڈی ایم سی کے علاوہ دلی کنٹونمنٹ بورڈ پر بھی اس کا قبضہ ہے۔

دہلی کے کستوربا نگر سے بی جے پی کے سابق کونسلر رہے جگدیش ممنگائی دہلی میں نظام قانون کی بدحالی، اراضی قوانین سے جڑی خدمات، این ڈی ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ میں بی جے پی کی حصولیابیاں شمار کرانے کا کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جو معاملے بی جے پی کے سیدھے کنٹرول میں ہے، ان پر کیے گئے کاموں کو شمار کرانے کے لیے بی جے پی کے پاس کچھ نہیں ہے، اس لیے عوام کا دھیان فرقہ وارانہ پولرائزیشن کرانے کے بہانے بی جے پی نے شاہین باغ، کشمیر میں دفعہ 370 پر اپنی پیٹھ تھپتھپانے اور اول جلول تشہیر کرنے میں ہی اپنی طاقت جھونکی ہوئی ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق صحافی وشو بندھو گپتا اس معاملے میں کہتے ہیں کہ ’’دہلی میں ملک کے گوشے گوشے اور ہر علاقے، زبان، ذات و مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ انھیں مشتعل کر کے اور ان کے درمیان آپسی نااتفاقی پیدا کر کے ووٹ کی سیاست کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔‘‘ دہلی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی کالونیوں کو ریگولرائز کرنے کے بی جے پی کے اعلانات پر زیادہ تر لوگوں کو کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ مقامی ووٹروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی حکومت کے شہری ترقی کے وزیر نے سیلنگ کو بھلے ہی پوری طرح روک دیا ہو، اور کچھ لوگ بھلے ہی غلط فہمی میں ہوں گے، لیکن سماجی تناؤ پیدا کرنے کے کچھ دنوں کے عمل نے بی جے پی کے مثبت پہلوؤں کو پوری طرح سے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔

اس کے علاوہ جے این یو میں نقاب پوش جرائم پیشوں کے ذریعہ ہاسٹل میں گھس کر طلبا پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو ایک ماہ گزرنے پر بھی نہ پکڑنا اور جامعہ کے طلبا پر مسلح خاموش تماشائی پولس کے سامنے ایک سرپھرے کے ذریعہ غیر قانونی کٹّہ سے جامعہ کے طلبا کو گولی مارنے کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ دہلی میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے نام پر انتخاب میں پولرائزیشن کرانے کی بی جے پی کی کوششیں پوری طرح منصوبہ بند کہانی کا حصہ ہیں۔

دہلی انتخابی تشہیر ختم ہونے میں جب محض 6 دن بچے ہیں تو بی جے پی کو اب دہلی میں 2 روپے کلو آٹا دینے کا وعدہ کرنا پڑا۔ یعنی 14 جنوری کو دہلی میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے کے 17 دن بعد بی جے پی کو ووٹروں کو عام آدمی پارٹی کی مفت اسکیموں کے ساتھ قدم تال ملانے کی یاد آئی۔

دہلی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے اندر دبی زبان سے یہ الزام لگانے والوں کی کمی نہیں ہے کہ قومی لیڈروں کے منفی طریقہ تشہیر نے سول سوسائٹی اور خواتین کے من میں بی جے پی کے اس نئے انداز نے ڈھیر سارے سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔ اس سے ایسا لگنے لگا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں مودی کے نام پر ووٹ دینے والے عام غریب اور متوسط طبقہ کے ووٹرس اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سے دوری بنا رہے ہیں۔