’ایس آئی آر کے ذریعہ بی جے پی مغربی بنگال میں ووٹ چوری کی کر رہی تیاری‘، کانگریس کا سنگین الزام
کانگریس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے نشانہ بنا کر 60 لاکھ ووٹرس لسٹ سے باہر کر دیے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی تجزیہ میں رکھے گئے ووٹرس کے معاملوں کا نمٹارا ہونے تک انتخاب کا اعلان نہ کیا جائے۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) کے ذریعہ بی جے پی پر مغربی بنگال میں ووٹ چوری کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ریاست میں انتخاب کے اعلان سے عین قبل تقریباً 60 لاکھ ووٹرس کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مغربی بنگال کے انچارج جنرل سکریٹری غلام احمد میر، ریاستی کانگریس صدر سبھانکر سرکار، رکن پارلیمنٹ عیسیٰ خان چودھری، پرسونجیت بوس، ریاستی تنظیمی جنرل سکریٹری آشوتوش، بی پی سنگھ اور منیش تمانگ نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں حقیقی ووٹرس کو انتخابی عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے۔
غلام احمد میر نے کہا کہ مغربی بنگال میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران لاکھوں ووٹرس کو عدالتی جانچ کے نام پر ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اب تک تقریباً 60 لاکھ ووٹرس کی صورتحال واضح نہیں ہے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں اسمبلی انتخاب کا اعلان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ان ووٹرس کے معاملات کا فیصلہ کیے بغیر انتخاب کا اعلان کیا جاتا ہے تو یہ سب سے بڑی ووٹ چوری ہوگی۔
غلام احمد میر نے ضلع مالدہ کی کئی اسمبلی نشستوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بڑی تعداد میں ووٹرس اب بھی ووٹر لسٹ سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق گاجول اسمبلی حلقہ میں تقریباً 32,391 ووٹرس، چانچل میں 73,897 ووٹرس، ہریش چندرپور میں 91,978 ووٹرس، مالتی پور میں 94,737 ووٹرس، رتوا میں 1,04,485 ووٹرس، مانک چک میں 65,496 ووٹرس، مالدہ نشست میں 36,557 ووٹرس، انگلش بازار میں 37,775 ووٹرس، موتھاباڑی میں 79,682 ووٹرس، سجاپور میں سب سے زیادہ 1,34,518 ووٹرس اور ویشنو نگر میں 68,787 ووٹرس ووٹر لسٹ سے باہر ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ صرف ایک ضلع میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹرس کا فہرست سے باہر ہونا شکوک پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع مرشد آباد میں بھی تقریباً 11 لاکھ ووٹرس اب تک فہرست سے باہر بتائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک اسمبلی حلقہ میں تقریباً ایک لاکھ ووٹرس کے نام عدالتی جانچ یا تحقیقات کے نام پر ہٹا دیے جائیں تو وہاں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں؟ ان کے مطابق یہ ایک ہدفی کارروائی ہے جس کے تحت ووٹرس کے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں پہلے مرحلہ میں تقریباً 25 لاکھ لوگوں کو مردہ قرار دے دیا گیا، 12 سے 13 لاکھ لوگوں کو مہاجر دکھا کر فہرست سے ہٹا دیا گیا اور لاکھوں لوگوں کے پتے نہ ملنے کا بہانہ بنایا گیا تھا۔
غلام احمد میر نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ملک میں ووٹ چوری کے مسئلہ کو اٹھا رہے ہیں اور مغربی بنگال کا معاملہ اسی کی ایک بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مغربی بنگال میں پوری طاقت کے ساتھ انتخاب لڑے گی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کرے گی کہ کوئی بھی حقیقی ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔
کانگریس رہنماؤں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 28 فروری 2026 کو شائع ہونے والی مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ میں کل 7,04,59,284 ووٹرس درج ہیں، جن میں سے تقریباً 60,06,675 ووٹرس یعنی تقریباً 8.5 فیصد کو ’زیر سماعت‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 فروری 2026 کو سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ زیر التوا معاملات کے تصفیہ تک ضمنی فہرستیں مسلسل شائع کی جائیں۔ رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 24 کے تحت ووٹرس کو اپیل کا حق حاصل ہے، جبکہ دفعہ 23 کے مطابق نامزدگی کی آخری تاریخ کے بعد ووٹر لسٹ میں نیا نام شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے کانگریس نے مطالبہ کیا کہ تمام زیر التوا معاملات کے فیصلہ سے پہلے انتخابی عمل شروع نہ کیا جائے اور حتمی ووٹر لسٹ شائع کرنے سے قبل فارم-6 اور فارم-7 کی درخواستوں کی دوبارہ جانچ کرائی جائے۔ کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جب تک نظرثانی میں رکھے گئے تمام ووٹرس کے معاملات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک انتخابات کا اعلان نہ کیا جائے۔
کانگریس لیڈر پرسونجیت بوس نے مغربی بنگال کے چیف الیکشن افسر کے دفتر سے جاری ڈاٹا میں سنگین بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ 20 جنوری کو دعووں اور اعتراضات کی کارروائی ختم ہونے کے بعد چیف الیکشن افسر کے مطابق نام شامل کرنے کے لیے تقریباً 9.64 لاکھ فارم-6 درخواستیں اور نام حذف کرنے کے لیے صرف 99 ہزار فارم-7 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ تاہم 28 فروری کو ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس نوٹ میں کہا گیا کہ صرف 1.8 لاکھ فارم-6 درخواستیں ہی منظور کی گئیں، یعنی نام شامل کرنے کے لیے تقریباً 7.8 لاکھ درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ دعووں اور اعتراضات کے آخری دن تک صرف 99 ہزار فارم-7 درخواستیں رپورٹ کی گئی تھیں، لیکن حتمی رپورٹ کے مطابق فارم-7 کے ذریعے 5,46,000 ووٹرس کے نام کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وقت کی حد گزرنے کے بعد یہ اضافی فارم-7 درخواستیں آخر کہاں سے آئیں؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔