’بی جے پی اتراکھنڈ میں ختم ہو رہی اور کانگریس متحد‘، بی جے پی لیڈران کی کانگریس میں شمولیت کے بعد پارٹی کا دعویٰ

کماری شیلجا نے کہا کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت کے تئیں عوام میں بہت غصہ ہے۔ ریاست میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ گزشتہ سالوں میں کئی معاملوں کا پردہ فاش کانگریس لیڈران و کارکنان نے کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘ @INCUttarakhand</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’آج کی یہ پریس واضح اشارہ دیتی ہے کہ بی جے پی اتراکھنڈ میں ختم ہو رہی ہے اور کانگریس متحد ہے۔ تمام وہ لیڈران جو بی جے پی کو اتراکھنڈ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، انھوں نے آج کانگریس پارٹی کا دامن تھاما ہے۔ میں ان سبھی لیڈران ک کانگریس پارٹی میں استقبال کرتا ہوں۔‘‘ یہ بیان آج دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر گردیپ سپل نے دیا۔ انھوں نے اتراکھنڈ کے کئی بی جے پی لیڈران کو کانگریس میں شامل کرنے کے بعد کہا کہ ’’یہ پہلا مرحلہ ہے۔ آنے والے دنوں میں ریاست کی ناراضگی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرے گی اور عوام کے ساتھ مل کر کانگریس پارٹی بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرے گی۔‘‘

اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔ اتراکھنڈ انچارج کماری شیلجا نے کہا کہ ’’آج اتراکھنڈ سے کئی ساتھی کانگریس کے نظریات کے تئیں وقف ہو کر پارٹی جوائن کر رہے ہیں۔ ان میں راج کمار ٹھکرال، نارائن پال، بھیم لال آریہ، گورو گویل، لاکھن سنگھ، انوج گپتا شامل ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت کو لے کر لوگوں کے من میں بہت غصہ ہے۔ ریاست میں بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ گزشتہ سالوں میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے، جس کا پردہ فاش کانگریس پارٹی کے لیڈران و کارکنان نے وقت وقت پر کیا۔ گزشتہ دنوں ہمارے ساتھیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں ہمیں عوام کا بھی ساتھ ملا۔ بی جے پی حکومت پوری طرح سے بیک فٹ پر ہے۔‘‘


کماری شیلجا نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ پشکر دھامی کی شبیہ چمکانے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن ان کی اصل شبیہ عوام کے سامنے آ چکی ہے۔ ریاست کے لوگوں کے من میں کانگریس کے تئیں بھروسہ بڑھ رہا ہے اور آنے والے وقت میں اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘ اس موقع پر اتراکھنڈ کے سی ایل پی لیڈر یشپال آریہ نے کہا کہ ’’آج کا دن بہت خوشیوں والا ہے۔ اتراکھنڈ میں تبدیلی کے اشارے صاف دکھائی دے رہے ہیں اور اس کی وجہ بی جے پی کی تکبر والی حکومت ہے۔ بی جے پی نے اتراکھنڈ کو شرمسار کیا ہے۔ بی جے پی نے اتراکھنڈ کی عوام سے دھوکہ کیا ہے، جس کا خمیازہ انھیں بھگتنا ہوگا۔‘‘

پریس کانفرنس سے اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گودیال نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ کے لوگ کانگریس کی طرف امید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں، اور تمام ساتھی کانگریس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ آج خوشی کا موقع ہے اور اس موقع پر میں سبھی ساتھیوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، اور ان کا پارٹی میں استقبال کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ان سبھی ساتھیوں نے مضبوطی کے ساتھ کانگریس پارٹی کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سبھی کا ماننا ہے کہ ہم کانگریس کے نظریات کو قائم رکھیں گے اور 2027 میں کانگریس حکومت بنانے کا کام کریں گے۔‘‘


اتراکھنڈ کانگریس کیمپین کمیٹی کے چیئرمین پریتم سنگھ نے ریاست کی موجودہ حالت پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج اتراکھنڈ کی حالت بہت ہی خراب ہے۔ ریاست میں نظام قانون تباہ ہے اور خواتین کے ساتھ جو جرائم ہو رہے ہیں، ان میں بی جے پی لیڈران ملوث ہیں۔ بدعنوانی عروج پر ہے، نوجوان و کسان سڑک پر ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کانکنی مافیا، شراب مافیا، زمین مافیا مل کر اس حکومت کو چلا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اتراکھنڈ کے لوگ ’ڈبل انجن حکومت‘ سے آزادی چاہتے ہیں، کیونکہ موجودہ حکومت کو آئین اور جمہوریت میں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر قاضی نظام الدین نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اتراکھنڈ میں 9 سالوں مین ہزاروں اسکول بند ہو گئے، اسپتالوں میں ضروری ادویات نہیں ہیں، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف نہیں ہیں، ریاست میں بجلی کی شدید قلت ہے، پوری ریاست میں نظام قانون کی حالت خراب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کئی معزز لیڈران یہاں موجود ہیں۔ اتراکھنڈ کی عوام ریاست سے بی جے پی کا سوپڑا صاف کرنا چاہتی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور ریاستی انچارج کماری شیلجا کی قیادت میں کانگریس پارٹی اتراکھنڈ میں مضبوط ہو رہی ہے۔ اس بار بی جے پی حکومت کو عوام پوری طرح مسترد کر دے گی۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔