عوام کا اعتماد کھو چکی ہے بی جے پی، دتیا کی جیت تبدیلی کا اشارہ: امنگ سنگھار

امنگ سنگھار نے کہا کہ ’’کسی بھی حکومت کے لیے ضمنی انتخاب عوام کی رائے جاننے کا ایک اہم امتحان ہوتا ہے۔ بی جے پی اس امتحان میں مسلسل ناکام رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امنگ سنگھار، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد امنگ سنگھار نے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں کانگریس کی جیت پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس جیت کو بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف عوام کا مینڈیٹ بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گزشتہ 22 سالوں سے اقتدار میں رہی بی جے پی عوام سے کیے بیشتر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کسانوں، نوجوانوں، دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات سے متعلق مسائل کو اٹھاتے ہوئے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ میں اٹھے رام مندر عطیات تنازعہ پر غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

امنگ سنگھار نے کہا کہ بی جے پی پہلے دن سے ہی ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ 22 سال کے اقتدار کے دوران بی جے پی نے کسانوں کو وقت پر کھاد دستیاب نہیں کرائی، ضرورت کے مطابق بجلی نہیں دی اور نوجوانوں کو روزگار دینے میں بھی ناکام رہی۔ حکومت نے بے روزگاری کے مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے نوجوانوں کو ’خواہشمند نوجوان‘ کہہ کر حقیقی مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ دلتوں اور قبائلیوں کی زمینوں سے متعلق تنازعات، ان پر ہونے ظلم اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو 27 فیصد ریزرویشن جیسے مسائل پر بھی حکومت صرف وعدے کرتی رہی، لیکن انہیں نافذ نہیں کر سکی۔ یہی مقامی اور عوامی مفاد سے جڑے مسائل دتیا ضمنی انتخاب میں نمایاں رہے اور عوام نے بی جے پی کو انہیں وجوہات کے سبب مسترد کر دیا۔


پارلیمنٹ میں رام مندر سے متعلق ہوئی بحث کا ذکر کرتے ہوئے امنگ سنگھار نے کہا کہ جن لوگوں نے خود کو مذہب کا محافظ بتایا وہی اب سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ رام مندر کے نام پر ملک بھر کے کروڑوں عقیدتمندوں نے اپنی عقیدت کے ساتھ عطیات دیے ہیں، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس رقم کا استعمال کس طرح کیا گیا۔ حکومت اس معاملے میں غیر جانبدارانہ جانچ کرائے اور یہ واضح کرے کہ مندر کے نام پر حاصل ہونے والے کروڑوں روپے کہاں گئے، ان کا استعمال کس نے کیا اور کیا اس رقم کا صحیح طریقے سے استعمال ہوا۔ یہ صرف سیاست نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقیدے سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے حکومت کو تحقیقات مکمل کر کے سچائی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

دتیا ضمنی انتخاب میں کانگریس کی جیت پر پوچھے گئے سوال پر امنگ سنگھار نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے لیے ضمنی انتخاب عوام کی رائے جاننے کا ایک اہم امتحان ہوتا ہے۔ بی جے پی اس امتحان میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ شیوپوری اور دتیا دونوں ضمنی انتخابات کے نتائج بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دوسری جانب کانگریس اس جیت سے پرجوش ہونے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی بھی کرے گی اور اپنی طاقت و کمزوریوں کا اندازہ لگا کر آئندہ انتخابات کی تیاری کرے گی۔


امنگ سنگھار نے کہا کہ دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب مکمل طور سے مقامی مسائل پر لڑا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں طویل عرصے سے ڈر و خوف کا ماحول تھا، جس کا اثر عوام اور تاجر طبقے پر بھی پڑ رہا تھا۔ بی جے پی نے بھی اس ماحول کو دیکھتے ہوئے اپنے سابق لیڈر کا ٹکٹ کاٹ دیا، جس کی وجہ سے اسے سیاسی نقصان ہوا۔ دوسری جانب کانگریس کارکنان نے متحد ہو کر انتخاب لڑا اور عوام تک مقامی مسائل کو مضبوطی سے پہنایا۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ دتیا کے عوام نے ڈر اور دباؤ کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس نے دتیا کو دہشت سے پاک بنانے کا پیغام دیا ہے اور عوام نے اسی سوچ کے ساتھ ووٹ دے کر تبدیلی کا راستہ منتخب کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔