بی جے پی نے اتراکھنڈ میں پانچ برسوں میں تین وزرائے اعلیٰ دئے

کیا اسمبلی انتخابات سے قبل سال میں دو بار وزیر اعلیٰ کی تبدیلی حکومت سے ووٹروں کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے فروری 2017 میں اتراکھنڈ کی 70 سیٹوں والی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں 56 سیٹیں جیت کر کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔ کانگریس کو 11 سیٹیں ملی تھیں اور دو سیٹیں دوسروں کے کھاتے میں گئیں۔

بی جے پی نے حکومت کے پانچ برسوں میں تین وزرائے اعلیٰ کو تبدیل کیا۔

الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی نے حکومت کی کمان ترویندر سنگھ راوت کو سونپی تھی۔ مارچ 2021 میں ان کی جگہ تیرتھ سنگھ راوت کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ پارٹی ہائی کمان نے صرف چار ماہ بعد 4 جولائی 2021 کو حکومت کی باگ ڈور پشکر سنگھ دھامی کو سونپ دی۔


تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی قیادت کی طرف سے اسمبلی انتخابات سے قبل سال میں دو بار وزیر اعلیٰ کی تبدیلی حکومت سے ووٹروں کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

تقریباً دو دہائی قبل قائم ہونے والی اس ریاست میں تاریخی طور پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ رہا ہے لیکن اس بار دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی قیادت والی پارٹی بھی مقابلے کو سہ رخی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔


ریاست میں رائے دہندگان کی فہرستوں کے تازہ ترین جائزے میں 5.37 لاکھ نئے ووٹروں کا اضافہ کیا گیا ہے اور ووٹروں کی کل تعداد تقریبا 41.44 لاکھ ہے۔

اتراکھنڈ میں 2017 کے انتخابات میں بی جے پی کو 46.5 فیصد ووٹ ملے تھے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے پارٹی کے ووٹ شیئر میں 13.37 فیصد کی بہتری آئی ہے۔


کانگریس پارٹی نے 33.5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ بہوجن سماج پارٹی کے ووٹ 5.2 فیصد کم ہوکر سات فیصد رہ گئے تھے۔

اتراکھنڈ میں بی جے پی کی مہم وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ مسٹر مودی نے حالیہ مہینوں میں ریاست کے کئی دورے کئے ہیں۔ کانگریس کی مہم کی ذمہ داری فی الحال پارٹی کے پرانے لیڈر مسٹر ہریش راوت کے کندھوں پر ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔