سیور اور ایس ٹی پی کے مسلسل اعلانات کے باوجود دہلی میں نکاسی آب کا مسئلہ برقرار: ڈاکٹر نریش کمار
دہلی کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے سیور و ایس ٹی پی منصوبوں کے مسلسل اعلانات پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور گزشتہ ڈیڑھ سال کی اسکیموں پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: دہلی میں بارش کے بعد پانی جمع ہونے کے مسئلے کو لے کر دہلی پردیش کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت سیور اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے نام پر مسلسل نئی اسکیموں کا اعلان کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے، جبکہ دہلی کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اعلان کی گئی تمام آبی، سیور اور ایس ٹی پی سے متعلق اسکیموں پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ہر منصوبے کی لاگت، کام کی پیش رفت اور اب تک ہونے والے اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ ان کے مطابق دہلی کے لوگوں کو محض اعلانات نہیں بلکہ نکاسی آب کے مسئلے سے مستقل راحت درکار ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے پرانے ایس ٹی پی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 1,090 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیے جانے اور 647 غیر مجاز کالونیوں میں سیور کنکشن کا کام شروع کیے جانے کے اعلان پر بھی سوال اٹھایا۔ ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ دہلی میں تقریباً 1,700 غیر مجاز کالونیاں ہیں، اس لیے صرف 647 کالونیوں کو سیور کنکشن دینے کا اعلان کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام غیر مجاز کالونیوں کو سیور نیٹ ورک سے جوڑا جائے۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ 18 اگست کو دہلی کے وزیر آب پاشی و سیور پرکاش ورما نے بھی اگلے 18 ماہ میں لاکھوں گھروں کو سیور نیٹ ورک سے جوڑنے اور دو برس میں سیوریج ٹریٹمنٹ کی صلاحیت میں موجود مکمل خلا کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق صرف ایک ہفتے کے اندر وزیراعلیٰ کی جانب سے اسی نوعیت کا ایک اور اعلان حکومت کی منصوبہ بندی اور کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتا ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ فروری 2026 میں 2,100 کروڑ روپے سے زیادہ کے آبی اور سیور منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مئی 2026 میں یمنا، سیور اور آبی بنیادی ڈھانچے سے متعلق 1,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی اسکیموں کو منظوری دی گئی، جن میں 12 نئے غیر مرکزی ایس ٹی پی بھی شامل تھے۔ جون 2026 میں کراول نگر کے لیے 138 کروڑ روپے کے سیور منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے سیور اور ایس ٹی پی کے نام پر کروڑوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات کے باوجود دہلی کو نکاسی آب کے مسئلے سے مستقل راحت کیوں نہیں مل سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری اور دیہی دہلی کے ساتھ ساتھ مجاز اور غیر مجاز کالونیوں میں بھی پانی جمع ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ حکومت کو بار بار نئے اعلانات کرنے کے بجائے پہلے اعلان کیے گئے منصوبوں کی پیش رفت اور اخراجات کا حساب عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوام اب اعلانات نہیں بلکہ عملی کام اور نکاسی آب کے مسئلے سے مستقل راحت چاہتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
