بی جے پی آگ لگاتی ہے ہم بجھاتے ہیں: راہل

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا ’’ہم بی جے پی والوں کو بھائی بہن ضرور مانتے ہیں لیکن ان کے نظریے سے متفق نہیں کیونکہ وہ آواز دبانے میں یقین رکھتے ہیں اور ہم بولنے کی آزادی دینے میں‘‘

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
user

سید خرم رضا

’’وہ توڑتے ہیں، ہم (کانگریس) جوڑتے ہیں، وہ جلاتے ہیں، ہم بجھاتے ہیں، وہ غصہ کرتےہیں ، ہم پیار کرتے ہیں۔‘‘ یہ سیدھا پیغام نومنتخب کانگریس صدر راہل گاندھی نے کانگریس صدر کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کی تقریب میں کانگریس کارکنان کو دیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے بی جے پی کو اپنے حملے کا سیدھا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کہیں آگ لگ جاتی ہے تو اسے بجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بی جے پی پورے ملک میں آگ لگا رہی ہے۔ اس آگ کو اگرکوئی پارٹی بجھا سکتی ہے تو وہ صرف کانگریس ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم بی جے پی والوں کو اپنا بھائی بہن ضرور مانتے ہیں لیکن ان کے نظریے سے متفق نہیں ہیں کیونکہ وہ آواز دبانے میں یقین رکھتے ہیں اور ہم بولنے کی آزادی دینے میں یقین رکھتے ہیں۔ راہل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک شخص کی رائے اور سوچ سے نہیں چل سکتا۔ سیدھے طور پر ذکر کئے بغیر راہل نے ’ماب لنچنگ‘ اور ’گئو رکشا‘ کے نام پر ہونے والے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مودی پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کانگریس ہندوستان کو 21ویں صدی میں لے گئی اور بی جے پی ہے کہ اس کو پیچھے کی طرف لے جا رہی ہے۔

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تصویر: راہل گاندھی صدرعہدے کی سند حاصل کرتے ہوئے 
قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تصویر: تقریب سے خطاب کرتے راہل گاندھی

راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں واضح لفظوں میں کہا کہ’’ ہندوستان میں دو نظریات ہیں ایک خود کا نظریہ اور دوسرا کسی دیگر کا نظریہ اور بی جے پی پہلے نظریے یعنی خود کے نظریے میں یقین رکھتی ہے، جبکہ کانگریس دوسرے کے نظریے میں یقین رکھتی ہے۔ یعنی وہ نظریہ جس میں سب کے نظریوں کا خیال رکھا جائے‘‘۔ اپنے 13سالہ سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ سیاست میں اب سچائی اور ہمدردی کا جذبہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور سیاست کا اصل مطلب جو کہ عوام سے سیدھا تعلق ہے، دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تصویر: تقریب سے خطاب کرتے منموہن سنگھ

کانگریس کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کے نومنتخب صدر نے کہا کہ کانگریس ایک پرانی سیاسی پارٹی ہے لیکن بی جے پی والے مانتے ہیں کہ ان کے پاس ہی سب سے پرانے خیالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میرا خاندان ہے اور اس موقع پر میں ملک کے نوجوانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں یہ ’گرینڈ اولڈ ینگ پارٹی ہو گی‘ اور ایک شخص جو خون پسینے سے پارٹی کے لیے کام کرتا ہے اس کے حق کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے۔

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تصویر: تقریب سے خطاب کرتیں سونیا گاندھی

پارٹی کی کمان باقاعدہ اپنے بیٹے کو سونپتے ہوئے سونیا گاندھی نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ’’راہل میرا بیٹا ہے اور میرااس کی تعریف کرنا مناسب نہیں ہے لیکن راہل نے بچپن میں تشدد کو دیکھا ہے اور سیاست میں آنے کے بعد اسے ذاتی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور ان سب سے اس کی شخصیت میں استقلال اور استحکام آیا ہے۔ میں نے اس کی پرورش ایک مضبوط شخصیت کے طور پر کی ہے‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے گاندھی خاندان، اپنی ساس اندرا گاندھی کی شخصیت کی زبردست تعریف بھی کی اور کہا کہ میرا سیاست سے رشتہ راجیو گاندھی سے شادی کی وجہ سے ہے مگر اندرا گاندھی کے ساتھ رہ کر میں نے ہندوستان کو بہت قریب سے دیکھا۔ سونیا نے کہا کہ اندرا گاندھی کے انتقال پر ایسا محسوس ہوا جیسے ’’میں نے اپنی ماں کو کھو دیا ‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اندرا گاندھی کے انتقال کے سات سال بعد میں نے اپنے شوہر کو کھویا۔ جب میں نے دیکھا کہ ملک کی اصل وراثت کو خطرہ درپیش ہے اور میری ساس اور میرے شوہر کی قربانیاں رائیگاں جا سکتی ہیں تو میں نے کانگریس کارکنان کے کہنے پر پارٹی کی ذمہ داری اس وقت سنبھالی جب کانگریس محض تین ریاستوں میں بر سر اقتدار تھی لیکن کانگریس کارکنان کی محنت اور لگن کی وجہ سے پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی اور ملک کی خدمت کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے غریبوں کے لیے قانون بنائے۔

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تصویر: صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی ماں سونیا کی پیشانی کا بوسہ لیتے راہل گاندھی  

اس موقع پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی تقریر میں کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کی قیادت کی زبردست تعریف کی اور موجودہ مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دانشور نے چند روز قبل تحریر کیا تھا کہ ’’یہ خطرات ہیں کہ خوف کی سیاست امید کی سیاست پر حاوی ہو جائے گی‘‘۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پارٹی کی جانب سے سونیا گاندھی کو ایک میمنٹو پیش کیا اور موتی لال ووہرا نے ان کو شال پیش کی۔

قومی آواز/ویپن
قومی آواز/ویپن
تقریب کا منظر

اس تقریب کے دوران اے آئی سی سی میں زبردست جشن کا ماحول تھا۔ پرینکا گاندھی اپنے شوہر کے ہمراہ پورے وقت تقریب میں موجود رہیں۔ کانگریس کے تمام سینئر رہنما بھی پوری تقریب کے دران موجود تھے جبکہ دیر سے آنے کے سبب کئی سینئررہنما اندر داخل نہیں ہو سکے۔ نو جو ت سنگھ سدھو، پنجاب کے وزیر اعلی ارمندر سنگھ کی اہلیہ ، پرنب مکھرجی کی بیٹی شرمشٹھا مکھرجی، سنیل جھاکڑ پوری تقریب کے دوران میڈیا انکلوژ ر میں کھڑے رہے۔ سونیا گاندھی کے خطاب کے وقت پٹاخوں کا شور اتنا زیادہ تھا کہ وہ اپنی تقریر شروع نہیں کر پائیں اور ان کو کئی منٹ تک اس بات کا انتظار کرنا پڑا کہ یہ شور بند ہو جائے اور وہ اپنا خطاب شروع کریں۔ پٹاخوں کے شور پر احمد پٹیل سخت ناراض بھی نظر آئے، سشمتا دیو اور دیپیندر ہوڈا باہر کی جانب بھاگے تاکہ پٹاخوں کا شور بند کیا جا سکے ۔ اس موقع پر خود راہل اپنی سیٹ سے اٹھ کر ایس پی جی کے لوگوں کی جانب گئے پھر اپنی والد ہ سے کچھ کہا بھی۔ بہر حال تھوڑی دیر بعد پٹاخوں کا جب شور کم ہو گیا تو سونیا نے اپنی تقریر شروع کی۔ اس تقریب کی نظامت جناردن دویدی نے کی اور مکل واسنک تمام انتظامات دیکھتے نظر آئے۔

تقریب کی کچھ یادگار تصاویر

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Dec 2017, 3:53 PM