جھارکھنڈ میں اپنے ہی وزیر اعلیٰ پر بی جے پی کو نہیں اعتبار، مودی-شاہ کے نام پر لڑا جائے گا الیکشن!

بی جے پی کے سامنے جھارکھنڈ میں زبردست چیلنج ہے۔ این ڈی اے میں شامل جنتا دل یو اور ایل جے پی کے ساتھ ہی آجسو کے الگ ہو جانے کے بعد اب بی جے پی کو وزیر اعلیٰ پر بھی بھروسہ نہیں رہ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جھارکھنڈ میں آجسو اور بی جے پی کے درمیان رسمی ’طلاق‘ کے بعد بھگوا پارٹی نے پالیسی طے کی ہے کہ اسمبلی انتخاب میں وزیر اعلیٰ رگھوبر داس کو پارٹی کا چہرہ نہ بنا کر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی سربراہ امت شاہ کی قیادت میں انتخاب لڑا جائے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کی حصولیابیوں پر روشنی ڈالنے کی جگہ قومی ایشوز کو اٹھایا جائے۔

جھارکھنڈ میں نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 13 نومبر کے بعد برسراقتدار این ڈی اے کی دو معاون پارٹیوں کے درمیان اتحاد ٹوٹ گیا۔ این ڈی اے کی ساتھی جنتا دل یو اور لوک جن شکتی پارٹی نے بھی تنہا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے سہ رخی مقابلوں کا سامنا کرنے کے لیے مرکزی قیادت کو آگے رکھ کر انتخاب لڑنے کی پالیسی تیار کی ہے۔ پارٹی کو بھروسہ ہے کہ اس پالیسی سے اسے کافی فائدہ ہوگا۔

پارتی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ وزیر اعلیٰ کے چہرے کو لے کر ہے، کیونکہ ریاستی بی جے پی میں رگھوبر داس کو غیر مقبول مانا جا رہا ہے اور یہ بات پارٹی کے کارگزار صدر جے پی نڈا اور پارٹی صدر امت شاہ تک پہنچ چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے سے فیصلہ لیا گیا ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی وزیر اعلیٰ چہرے کو آگے نہیں کرے گی۔ ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے رگھوبر کے ضمن میں کہا ہے کہ ’’ہم جانتے ہیں، ان سے لوگوں کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ لیکن اعتراف کرتا ہوں کہ الیکشن سے پہلے ہم خطرناک حالت میں ہوں گے۔ وہ ہمارے ’رام چندر‘ ہیں۔‘‘

یہ پوچے جانے پر کہ وزیر اعظم کتنی ریلیوں کو خطاب کریں گے، بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’’میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ بوتھ صدور سے لے کر وزیر اعظم تک، سبھی انتخابی تشہیر میں سرگرم رہیں گے۔‘‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم جھارکھنڈ میں مہاراشٹر یا ہریانہ سے زیادہ ریلیوں کو خطاب کریں گے۔ حالانکہ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے اعتراف کیا کہ اس بار الیکشن جیتنا 2014 جیسا آسان نہیں ہے۔

Published: 15 Nov 2019, 10:11 AM
next