رام مندر ایشو بی جے پی کا پیٹنٹ نہیں: اوما بھارتی

اوما بھارتی نے رام مندر معاملہ میں اُدھو ٹھاکرے کی حمایت کی اور کہا کہ ’رام‘ سبھی کے ہیں،اس پر صرف بی جے پی کا پیٹنٹ نہیں۔انھوں نے اس تعلق سے اسدالدین اویسی اور اعظم خان کو بھی آگے آنے کا مشورہ دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر اوما بھارتی نے رام مندر معاملہ پر ایک بڑا بیان دیا ہے جس میں انھوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے شیوسینا سربراہ اُدھو ٹھاکرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہاں میں اُدھو ٹھاکرے کی کوششوں کے لیے ان کی تعریف کرتی ہوں۔ رام مندر ایشو بی جے پی کا پیٹنٹ نہیں ہے۔ بھگوان رام سبھی کے ہیں۔ میں سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، اکالی دل، اسدالدین اویسی اور اعظم خان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ رام مندر تعمیر میں مدد کے لیے آگے آئیں۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے بی جے پی کے ذریعہ اس ایشو کو انتخابی تشہیر کے دوران اٹھائے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ اوما بھارتی کا یہ بیان اس لیے بھی حیران کرنے والا ہے کیونکہ وہ رام مندر کی پیروکار رہی ہیں اور مودی حکومت کی تشکیل کے بعد اس سلسلے میں ہمیشہ بی جے پی کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ لیکن موجودہ ماحول میں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اب مودی کابینہ کے کئی وزراء اور بی جے پی لیڈران بھی پارٹی لائن سے الگ بیان دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ این ڈی اے میں شامل شیو سینا اکثر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اُدھو ٹھاکرے نے اپنے ایودھیا دورے کے دوران بھی ایسا ہی کیا۔ اُدھو ٹھاکرے رام مندر تعمیر کا مطالبہ تیز کرنے کے مقصد سے 24 نومبر کو ایودھیا پہنچے تھے اور 25 نومبر کی شام ممبئی لوٹ گئے۔ ایودھیا دورہ کے دوران ٹھاکرے کے نشانہ پر بی جے پی تھی اور انھوں نے اشاروں اشاروں میں کہہ دیا کہ ’’معاملہ عدالت کے پاس ہے، فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے تو انتخابی تشہیر کے دوران اس کا استعمال نہ کریں اور بتا دیں کہ بھائیوں اور بہنوں، ہمیں معاف کرو، یہ بھی ایک انتخابی جملہ تھا۔‘‘

اُدھو ٹھاکرے نے مودی حکومت پر رام مندر تعمیر میں سست روی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ حکومت مندر نہیں بنائے گی تو شاید یہ حکومت بھی آئندہ نہیں بنے گی، لیکن مندر ضرور تعمیر ہوگا۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں نے سنا ہے وزیر اعلیٰ یوگی کا کہنا ہے کہ مندر تھا، ہے اور رہے گا۔ ہماری بھی یہی سوچ ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ رام مندر نظر نہیں آ رہا ہے۔ مندر کب نظر آئے گا؟ جلد سے جلد اس کی تعمیر شروع ہونی چاہیے۔‘‘

next