انتخابی کمیشن کی ہدایات کو ٹھینگے پر رکھ بی جے پی چلا رہی ’نمو ٹی وی‘

متنازعہ چینل ’نمو ٹی وی‘ کو چلانے والی بی جے پی نے انتخابی کمیشن سے وعدہ کیا تھا کہ چینل سے ڈاکیومنٹری وغیرہ کنٹینٹ کو ہٹا دیا جائےگا، لیکن مفت میں دستیاب اس چینل پر اب بھی جھوٹی خبریں نشر ہو رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

دھیریا ماہیشوری

دیکھا جائے تو ’نمو ٹی وی‘ ایک اشتہاری چینل ہے جسے بی جے پی کی ایڈورٹائزنگ سیل استعمال کر رہی ہے۔ اس چینل پر کم از کم ایک ڈاکیومنٹری تو ایسی ضرور نشر کی جاتی ہے جس میں چیزوں کو غلط طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور وہ ’فیک نیوز‘ یعنی جھوٹی خبر کے درجہ میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکیومنٹری ایسی ہے جس میں یو پی حکومت میں بنائے گئے گھروں کی تعداد کو غلط بتایا گیا۔ اس ڈاکیومنٹری میں اینکر کو کہتے سنا گیا کہ یو پی اے حکومت کے آخری چار سالوں میں یعنی 14-2013 تک صرف 25 لاکھ مکان بنائے گئے جب کہ مودی حکومت نے اپنے پہلے چار سال میں 1.25 کروڑ مکان بنائے۔ یہ دعویٰ سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال 19 اکتوبر کو شیرڈی میں منعقد جلسہ عام میں کیا تھا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

سچ کا پتہ لگانے والی کئی ویب سائٹس نے پی ایم کے اس دعویٰ کی جانچ کی۔ سرکاری ایجنسیوں کے لیے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی جانچ میں سامنے آیا کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوراقتدار کے آخری چار سال میں 89.56 لاکھ مکان بنائے گئے تھے۔ یہ تعداد پی ایم مودی کے دعوے کے ساڑھے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ’نمو ٹی وی‘ پر غلط اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ بی جے پی اور ’نمو ٹی وی‘ نے انتخابی کمیشن کو یقین دلایا تھا کہ سبھی قسم کے اشتہار والے مواد کو چینل سے ہٹا دیا جائے گا، لیکن اب تک نمو ٹی وی پر سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے۔ ہفتہ کے روز نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے خبر دی تھی کہ بی جے پی نے انتخابی کمیشن کو یقین دلایا ہے کہ نمو ٹی وی پر ایسا کوئی بھی مواد نہیں دکھایا جائے گا جسے کمیشن کی میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے سرٹیفائیڈ نہیں کیا ہے یا دکھانے سے انکار کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’نیشنل ہیرالڈ‘ نے دہلی کے چیف الیکشن افسر اور میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسے ہی ان کا کوئی جواب آئے گا تو ہم اس خبر کو اَپ ڈیٹ کریں گے۔

انتخابی کمیشن کی ہدایات کو ٹھینگے پر رکھ بی جے پی چلا رہی ’نمو ٹی وی‘

غور طلب ہے کہ گزشتہ 31 مارچ کو ’نمو ٹی وی‘ ملک کے سبھی ڈی ٹی ایچ پلیٹ فارم پر دستیاب کرا دیا گیا۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے اسے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے انتخابی کمیشن سے شکایت بھی کی ہے۔ اس کے بعد انتخابی کمیشن نے دہلی کے چیف الیکشن افسر سے پوچھا تھا کہ کیا نمو ٹی وی کا نشریہ شروع کرنے سے پہلے ان سے اجازت لی گئی تھی۔ اس کے جواب میں دہلی کے چیف الیکشن افسر نے کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی بی جے پی نے اس بارے میں کوئی اجازت لی ہے۔