’وَن مین شو‘ اور ’ٹو مین آرمی‘ بی جے پی کو تباہ کر دے گی: شتروگھن

’وَن مین شو‘ اور ’ٹو مین آرمی‘ بی جے پی کو تباہ کر دے گی: شتروگھن
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی ممبر پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے بی جے پی کو ’وَن مین شو‘ اور ’ٹو مین آرمی‘ بتاتے ہوئے ایک بار پھروزیر اعظم اور اپنی پارٹی کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اسی صورت میں لوگوں کی امیدوں پر کھرا اتر سکتی ہے جب پارٹی ’وَن مین شو‘ اور ’ٹو مین آرمی‘ والے کھانچے سے باہر نکلے ۔ شاٹ گن کے نام سے مقبول شتروگھن سنہا نے مزید کہا کہ آج کی تاریخ میں ملک کے نوجوان، کسان اور تاجر طبقہ بی جے پی کی پالیسیوں سے خفا ہیں اور اس سمت میں بی جے پی کو ضرور سوچنا چاہیے۔ مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدنظر ایک خبر رساں ایجنسی سے انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ہم گجرات اور ہماچل پردیش، دونوں اسمبلی انتخابات میں سخت چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ نوجوانوں، کسانوں اور تاجروں میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے تئیں سخت ناراضگی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کی پالیسیوں اور نریندر مودی حکومت کے اقدام سے شتروگھن سنہا پہلے بھی کئی بار اپنی ناراضگی ظاہر کر چکے ہیں۔ کچھ دن قبل ہی انھوں نے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کی حمایت کرتے ہوئے ملک کی گرتی معیشت پر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے معیشت کو بہت بڑانقصان پہنچایا ہے اور غریب و متوسط طبقہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ بی جے پی کو چھوڑنے کا ارادہ کر رہے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’’میں بی جے پی کو چھوڑنے کے لیے پارٹی میں شامل نہیں ہوا تھا۔ لیکن جب میں کہتا ہوں کہ ہم اپنے چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتے ہیں، تو اس سے سمجھنا چاہیے کہ پارٹی ’وَن مین شو‘ اور ’ٹو مین آرمی‘ بن رہی ہے جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا۔‘‘

سابق مرکزی وزیر شتروگھن سنہا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو متحد ہو کر اور ان بڑے بزرگوں کے مشوروں سے آگے بڑھنا ہوگا جنھوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے پارٹی کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ ہمیں عزم مصمم کے ساتھ لڑائی لڑنی ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا اور ارون شوری جیسے سینئر لیڈروں کی کیا غلطی تھی کہ انھیں سائیڈ لائن کر دیا گیا اور کشمکش کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ ہم لوگ سبھی ایک فیملی کے رکن ہیں۔ اگر ان میں سے کسی سے کچھ غلطی ہوئی ہے تو اسے کیوں نہیں بھلایا جا رہا۔‘‘ شتروگھن سنہا نے پارٹی اعلیٰ کمان کو نصیحت بھی دی کہ حکومت کی خامیوں کا ایمانداری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی دونوں محاذ پر حکومت کے قدم فلاحی ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ جی ایس ٹی کی پیچیدگی سے تاجر طبقہ ناخوش ہے اور اسے جتنی جلدی سمجھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمالکریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔
next