بی جے پی کے ’جوتا مار‘ رکن پارلیمنٹ کا کٹ گیا ٹکٹ

سنت کبیر نگر سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی کے ذریعہ اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی پر جوتا چلانا مہنگا پڑ گیا ہے۔ ان کی جگہ اس سیٹ کے لیے پروین نشاد کو امیدوار بنایا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پارٹی میٹنگ میں بی جے پی کے ہی رکن اسمبلی کو جوتے سے مارنے والے رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی کا بی جے پی نے اس بار ٹکٹ کاٹ دیا ہے۔ دراصل بی جے پی نے لوک سبھا انتخاب کے لیے یو پی کی بقیہ سات سیٹوں پر اپنے امیدواروں کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے۔ ان سات سیٹوں میں اتر پردیش کی سنت کبیر نگر سیٹ بھی شامل ہے۔ اسی لوک سبھا حلقہ سے موجودہ رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی کی جگہ پروین نشاد کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شرد ترپاٹھی کے والد رما پتی ترپاٹھی کو دیوریا سے امیدوار بنایا ہے۔

غور طلب ہے کہ مارچ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی کو جوتے سے پیٹ کر سرخیوں میں آئے تھے۔ اس ’جوتا کانڈ‘ کے بعد شرد ترپاٹھی کا ٹکٹ کٹنا طے مانا جا رہا تھا۔ 6 مارچ کو اس ’جوتا کانڈ‘ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی اور رکن اسمبلی راکیش بگھیل کے درمیان کسی بات کو لے کر بحث ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بحث پرتشدد رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد رکن اسمبلی بگھیل رکن پارلیمنٹ کو جوتے سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اتنا سن کر شرد ترپاٹھی اپنا جوتا نکالتے ہیں اور رکن اسمبلی بگھیل کی پٹائی شروع کر دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ بی جے پی نے اتر پردیش کی سات لوک سبھا سیٹوں کے لیے امیدواروں کا اعلان 15 اپریل کو کیا۔ بی جے پی نے بھوجپور فلم اداکار روی کشن کو گورکھپور سے امیدوار بنایا ہے۔ اس کے علاوہ پرتاپ گڑھ سے سنگم لال گپتا، امبیڈکر نگر سے مکٹ بہار، سنت کبیر نگر سے پروین نشاد، دیوریا سے رما پتی رام ترپاٹھی، جون پور سے کے پی سنگھ اور بھدوہی سے رمیش بند کو امیدوار بنایا ہے۔