این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش: ڈاکٹر ایوب سرجن

ڈاکتڑ ایوب سرجن نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے یہ پیغام ضرور دیا کہ وہ جو چاہیں گے انجام دے کر رہیں گے اور حزب میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ان کے فیصلوں پر رخنہ پیدا کر سکیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گزشتہ پارلیمانی انتخابی مہم کے دوران آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے و آسام کی طرح پورے ملک میں این آر سی کا نفاذ کا اپنے خطاب میں مزید مدعا بنایا تھا۔ خصوصی طور سے مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے ووٹوں میں نقب زنی کرنے و لوہا لینے کی غرض سے این آر سی کا خوف پیدا کیا تاکہ مغربی بنگال کے مسلمانوں میں تشویش پیدا ہو جس کا اظہار اکثریت کے سامنے آنے سے بی جے پی کو فائدہ حاصل ہو سکے۔ بی جے پی کو اس کا فائدہ بھی خصوصی طور سے مغربی بنگال میں حاصل ہوا جس کی امید خود انہیں نہیں تھی۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکتڑ ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور کے سبب جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے یہ پیغام ضرور دیا کہ وہ جو چاہیں گے انجام دے کر رہیں گے اور حزب میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ان کے فیصلوں پر رخنہ پیدا کر سکیں۔ اب عوام میں بی جے پی کی جانب سے این آر سی کو لے کر خصوصی طور سے مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

دوسری مرتبہ مرکز میں زیر اقتدار آنے کے بعد بی جے پی کی حمایت میں جس طرح سے راجیہ سبھا میں حالات سازگار ہوئے ہیں اس سے عوام میں یہ پیغام ضرور گشت کر رہا ہے کہ ممکن ہے بی جے پی مردم شماری کے نام پر این آر سی کو نافذ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اب مسلمانوں میں یہ پروپگنڈہ ضرور پھیلایا جا رہا ہے کہ مردم شماری کے ساتھ جلد این آر سی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ البتہ رپورٹوں کے بموجب ہندوستانی شہریت قانون 1955 کی دفعہ 14 کے بموجب ملک کے ہر ایک شہری کو اپنا نام و پتہ قومی رجسٹر این آر سی میں اندراج کرانا ضروری ہے۔ اطلاع کے بموجب یکم/ اپریل 2020 سے 30/ ستمبر 2020 کے دوران پورے ملک میں نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این آر پی ) نافذ کیا جائے گا۔ اس کیلئے شہری و دیہی علاقوں میں دو مرتبہ کیمپ لگایا و ہر باشندے کو اس سے مطلع کیا جائے گا۔

گزشتہ 2011 کی مردم شماری میں جن کے نام درج ہیں سرکاری نمائندہ خود فارم لے کر ان کے گھر جائیں گے۔ فارم کا نام این وائی آر ہے۔ لہذا مطلع ذرائع کے بموجب انصاف پسند ہندوستانیوں و ہمدردان قوم ملت کو اس سلسلے میں درست رہنمائی و مزید بیداری پیدا کر خوف دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر ( این آر پی) یا پھر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس ( این آر سی) سے خوفزدہ ہونے کی مسلمانوں کو ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو اپنے دستاویز و کاغذات کی درستگی پر مزید ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں غفلت و لاپروائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔