ممبر پارلیمنٹ نصرت جہاں کو لے کر بی جے پی کا ممتا بنرجی پر حملہ

دیبا شری نے کہا کہ ممتا بنرجی کو اس طرح کے فتویٰ بازی کے خلاف بولنا چاہیے، یا وہ اپنی ممبر پارلیمنٹ نصرت جہاں کے خلاف فتویٰ جاری ہونے کی وجہ سے خوف زدہ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کولکاتا: ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ نصر ت جہاں اپنے بیانات اور سرگرمیوں کی وجہ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے لئے پریشانیوں کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ایک طرف اپنے شوہر کے ساتھ درگا پوجا میں شرکت کرنے کی وجہ سے مسلم حلقوں سے چہ مگوئیاں ہوتی ہیں تو دوسری طرف اس پورے معاملے میں ممتا بنرجی کی خاموشی کو لے کر بی جے پی سوال کھڑے کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر دیبا شری چودھری نے نصرت جہاں کے ذریعہ پوجا کیے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شخصی آزادی ہے اور ہر کسی کو اپنی پسند کے مطابق پوجا یا پھر عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم مرکزی وزیر نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ممتا بنرجی کی خاموشی حیرت انگیز ہے۔ وہ صرف ووٹوں کی خاطر اپنے ممبر پارلیمنٹ کی حمایت نہیں کر رہی ہیں۔

دیبا شری نے کہا کہ یہ ہندوستانی روایات ہے کہ شادی کے بعد خواتین اپنے شوہر کے مذہب پر عمل کرتی ہیں۔ ہندوستان کے آئین نے بھی اس کی آزادی دی ہے۔ مگر حیرت میں ہوں کہ اس پورے معاملے میں ممتا بنرجی خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کو اس طرح کے فتویٰ بازی کے خلاف بولنا چاہیے اور کیا وہ اپنی ممبر پارلیمنٹ نصرت جہاں کے خلاف فتویٰ جاری ہونے کی وجہ سے خوف زدہ ہیں۔

خیال رہے کہ نصرت جہاں نے درگا پوجا میں شرکت کی تھی۔ اس پر ایک ٹی وی مباحثہ میں مسلم لیڈر نے کہا کہ نصرت جہاں کا عمل غیر اسلامی ہے اور اس سے اسلام بدنام ہوتا ہے۔ مسلم لیڈر نے نصرت جہاں سے کہا کہ انہیں اپنے پسند کے مذہب پر عمل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ مگر ایک طرف وہ خود کو مسلمان بھی کہتی ہیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی مسلم علاقے سے لوک سبھا کا ٹکٹ دیا گیا تھا مگر دوسری طرف وہ اسلامی شریعت کی ہدایت کے خلاف جاکر پوجا کرتی ہیں۔ جبکہ اسلام میں مورتیوں کے پوجا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر نصرت جہاں کو پوجا ہی کرنی ہے تو وہ اپنا نام تبدیل کرلیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہنا بند کردیں۔

ایک غیر معروف مسلم تنظیم ”انجمن اتحاد ملت“ کے صدر اسد قاسمی نے کہا کہ ایسے لوگوں کی اسلام کو ضرورت نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے بدنامی کا سبب بنیں۔ خیال رہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ بشیر ہاٹ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والی نصرت جہاں نے رکن پارلیمنٹ بننے کے فوری بعد ایک جینی تاجر نکھل جین سے شادی کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی وہ سرخیوں میں اپنے بیانات اورسرگرمیوں کی وجہ سے ہیں۔ ایک طرف جہاں کچھ غیر معروف مذہبی لیڈران ٹی وی چینلوں پر نصرت جہاں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں وہیں نصرت جہاں بھی متنازع بیان دینے سے نہیں چوکتی ہیں۔

درگا پوجا میں شرکت کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نصرت جہاں نے کہا کہ درگا پوجا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پوجا کرنے کا ہر ایک کا طریقہ ہوتا ہے اور تمام مذہب کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ بنگال کے کلچر اور روایات کا یہ حصہ ہے اور درگا پوجا تمام مذاہب والے مل کر مناتے ہیں۔ نصرت جہاں کے شوہر نکھل نے کہا کہ ہندوستان میں بے شمار لوگ بین مذاہب شادی کرتے ہیں ا ور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہوئے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہتے ہیں۔