رام مندر کے نام پر وصول کیے گئے چندے بی جے پی اور آر ایس ایس لوٹ رہی ہیں: کانگریس

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر میں رام مندر پلگریج ٹرسٹ کے ذریعے چندے وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس ٹرسٹ کے ساتھ ہی بی جے پی و آر ایس ایس کے لوگ بھی گھر گھر جاکر نقد پیسے وصول کر رہے ہیں

رام مندر، آئی اے این ایس
رام مندر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر میں رام مندر پلگریج ٹرسٹ کے ذریعے چندے وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس ٹرسٹ کے ساتھ ہی بی جے پی و آر ایس ایس کے لوگ بھی گھر گھر جاکر نقد پیسے وصول کر رہے ہیں۔ بی جے پی و آر ایس ایس کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ بی جے پی و آر ایس ایس کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہیں اور یہ پیسے بی جے پی کے لوگ یا بی جے پی کے پارٹی فنڈ میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے دیے ہوئے چندے رام مندر پیلگریج ٹرسٹ میں پہونچے۔ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کی تفتیش کرے کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے بی جے پی وآرایس ایس نے ابھی تک جتنے چندے وصول کیے ہیں وہ رام مندر ٹرسٹ تک پہونچے یا نہیں۔ یہ مطالبہ آج یہاں ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔


انہوں نے کہا ہے کہ رام مندر کے نام کو استعمال کرنا ہی بی جے پی کا کاروبار ہے۔ رام مندر کے نام پر سیاست کرتے ہوئے یہ پارٹی اقتدار میں آئی اور اب اس کی تعمیر کے نام پر عوام کو لوٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ساونت نے کہا کہ بی جے پی و آر ایس ایس نے اس سے قبل بھی رام مندر کے نام پر عوامی چندہ وصولا تھا، ان چندوں کا کیا ہوا؟ اس کے بارے میں بی جے پی و آر ایس ایس نے کوئی معلومات نہیں دی۔

رام مندر کے لیے کئی برسوں تک لڑنے والے نرموہی اکھاڑہ نے ویشو ہندو پریشد پر رام مندر کے لیے جمع کیے گئے 1400 کروڑ روپیے ہڑپنے کا الزام عائد کیا تھا۔ آل انڈیا ہندومہاسبھا نے 2015 میں وی ایچ پی پر 1400 کروڑ روپئے نیز کئی کوئنٹل سونا ہڑپ کر جانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کا بھی جواب ابھی تک سنگھ پریوار کی جانب سے نہیں دیا گیا ہے نیز ان الزامات کی تفتیش کرانے پر آمادگی بی جے پی کی کسی بھی حکومت نے نہیں دکھائی ہے۔ اس ضمن میں آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے وزیر اعظم کے دفتر میں 4 اگست 2018 کو شکایت بھی کی تھی۔


4 جنوری 2021 کو آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے رام مندر کی تعمیر کے لئے بی جے پی کے فنڈ ریزنگ پروگرام کی مخالفت کی ہے۔ اس کے مطابق بی جے پی ک کبھی بھی ایودھیا میں رام مندر نہیں چاہیے تھا اور بی جے پی کے لئے یہ صرف پیسے کمانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہندو مہاسبھا کے ترجمان پرمود پنڈت جوشی نے یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں بی جے پی نےرام مندر کے نام پر جو پیسے جمع کیے ہیں، ان کا ابھی تک کوئی حساب نہیں دیا ہے۔ پرمود پنڈت جوش کا یہ بھی کہا ہے کہرام مندر کے لیے بی جے پی کی شکل میں راون پیسے جمع کررہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جمع شدہ پیسوں کا حساب بی جے پی نے عوامی طور پر ظاہرنہیں کیا تو وہ اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

سچن ساونت نے مزید کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے نام پر فنڈ ریزنگ کے دوران غبن کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جو افسوسناک ہیں۔ 10 ستمبر 2020 کو رام مندر ٹرسٹ اکاوٴنٹ سے 6 لاکھ روپیے کلون چیک کے ذریعے نکالے گیے تھے۔ 12 اپریل 2020 کو دہلی کے ایک نوجوان پر ایودھیا میں رام مندر پولیس اسٹیشن میں جھوٹے ٹرسٹ کے نام پر جھوٹی ویب سائٹ بناکر پیسے اینٹھنے کی شکایت کی گئی تھی۔


شری رام مندر تعمیر سمرپن فنڈ کمیٹی کے چیرمین نے مردآباد میں جھوٹی رسیدوں کے ذریعے رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ وصول کرنے والے 4 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ پیلی بھیت میں بھی جھوٹے ٹرسٹ کے ذریعے چندے وصول کرنے کی بات سامنے آچکی ہے۔ رام مندر کے ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمت رائے نے بھی دہلی میں رام مندر کے نام پر جعلی ٹویٹر اور ویب سائیٹ بنانے کی شکایت کرچکے ہیں۔

آر ایس ایس سے متعلق ایپ انڈیا نامی نیوزپورٹل نے رام جنم بھومی کے تیرتھ کے نام پر بدعنوانی کرنے والے 13 یو پی آئی اکاؤنٹ کی فہرست دی تھی جن سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ سورت پولیس نے بھی اسی طرح کی ایک کارروائی کرتے ہوئے ۱۶؍جنوری کو ایک نوجوان کو رام مندر کے نام پر پیسہ جمع کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ اس پسِ منظر میں مہاراشٹر میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذریعے بڑے پیمانے پر نقد رقم وصول کیا جا رہا ہے۔


اس وصولی میں رام کے عقیدت مندوں کے ساتھ دھوکہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ اسی لیے رام مندر ٹرسٹ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پیسے رام مندر ٹرسٹ تک جارہے ہیں یا نہیں۔اسی کے ساتھ مہاراشٹر کی عوام کے ساتھ دھوکہ نہ ہو اس لیے بی جے پی وآرایس ایس کے ذریعے وصول کیے جارہے چندوں کے بارے میں ریاستی حکومت تفتیش کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 29 Jan 2021, 11:11 PM