’جے شری رام‘ کے جواب میں اویسی کے جے بھیم، جے میم، اللہ اکبر، جے ہند کے نعرے

جب لوک سبھا میں ’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگے تو اسدالدین اویسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملی۔ انھوں نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے نعرہ زور زور سے لگانے کا اشارہ بھی کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پارلیمانی اجلاس کے دوسرے دن آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین یعنی اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے رکن پارلیمنٹ کا حلف لیا، لیکن اس دوران پارلیمنٹ میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ گونج اٹھا۔ دراصل منگل کو جیسے ہی اویسی اپنی سیٹ سے اٹھ کر حلف لینے کے لیے ویل کی طرف قدم بڑھایا، بی جے پی اور اس کی ساتھی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نے جے شری رام، بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔ اس کے جواب میں اویسی نے بھی دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے زور زور سے نعرہ لگانے کا اشارہ کیا۔

جب پارلیمنٹ میں ’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگے تو اسدالدین اویسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملی۔ پھر انھوں نے اُردو میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ لوک سبھا میں حیدر آباد کی نمائندگی کرنے والے اویسی نے ’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ نعرہ کا جواب اپنے حلف کے آخر میں دیا۔ دراصل انھوں نے حلف لینے کے بعد جے بھیم، جے میم، اللہ اکبر اور جے ہند کا نعرہ لگایا۔

بہر حال، بی جے پی اور اس کی ساتھی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ ’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کا نعرہ لگائے جانے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ ’’یہ اچھی بات ہے، کم سے کم مجھے دیکھ کر انھیں رام کی یاد تو آئی۔ ساتھ ہی اسدالدین اویسی نے یہ بھی کہا کہ امید ہے کہ بی جے پی والوں کو آئین اور مظفر پور میں بچوں کی موت بھی یاد رہے گی۔‘‘

واضح رہے کہ اسدالدین اویسی اکثر مودی حکومت کے خلاف کھل کر بولتے رہے ہیں۔ رام مندر کا مسئلہ ہو یا پھر طلاق ثلاثہ سے جڑا بل، وہ تمام ایشوز پر اپنی رائے بلاجھجک رکھتے رہے ہیں اور پورے پانچ سال مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

Published: 18 Jun 2019, 7:10 PM