بہار میں اتحادی لیکن اتر پردیش پردیش میں مکیش ساہنی کے بی جے پی مخالف سر

بہار کے وی آئی پی کے سربراہ مکیش ساہنی نے اجودھیا میں کہا کہ مشن 2022 میں نشاد ذاتیں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی اور نشاد سماج کسی پارٹی کے جھانسی میں نہیں آئے گا۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل تمام پارٹیاں اپنے اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے میں لگی ہیں ۔ بہار میں جو پارٹی بی جے پی کی اتحادی ہے وہ اتر پردیش میں بی جے پی کی حامی ہونے کے بجائے اس کے خلاف ہے اور اس نے بی جے پی کے خلاف ہی مورچہ کھول دیا ہے۔ نتیش حکومت میں وزیر اور وی آئی پی کے سربراہ مکیش ساہنی رام بھکت بن کر کل اجودھیا پہنچ گئے ۔

سن آف دی ملاح (ملاحوں کے بیٹے) کے نام سے مشہور مکیش ساہنی نے کہا کہ اس مرتبہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں 169 سیٹوں پر کھیل ہوگا اور یہ وہ سیٹیں ہیں جہاں نشاد سماج کے ووٹروں کی تعداد خاصی ہے۔ مکیش ساہنی نے نشاد، مچھورا، ملاح، کیوٹ، بیند، مانجھی، دھیور، کہار، گوڈیا وغیرہ ذاتوں کے مدے اٹھائے۔


مکیش ساہنی نے کہا کہ سال 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اگر نشاد سماج کو زیادہ حقوق نہیں ملے تو بی جے پی کی کشتی پار نہیں لگے گی۔ انہوں نے کہا کے کیوٹ نے ہی بھگوان رم کی کشتی پار لگائی تھی لیکن آج خود ان کے سماج کے لوگ بیچ مجھدھار میں پھنسے ہیں ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نشاد سماج اب کسی کے جھانسے میں نہیں آئے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔