بھاگلپور میں کوؤں کی بڑی تعداد میں ہلاکت، برڈ فلو کی تصدیق کے بعد 10 کلو میٹر دائرے میں سینیٹائزیشن

بھاگلپور کے نوگچھیا علاقے میں مردہ کوؤں کی جانچ میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد انتظامیہ الرٹ ہے، 10 کلو میٹر دائرے میں سینیٹائزیشن اور پولٹری فارموں کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>برڈ فلو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار کے ضلع بھاگلپور میں برڈ فلو کے معاملے کی تصدیق کے بعد انتظامیہ اور مقامی آبادی میں تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ نوگچھیا سب ڈویژنل کمپلیکس کے احاطے میں واقع ایک میدان میں بڑی تعداد میں کوؤں کی اچانک ہلاکت کے بعد جب ان کی جانچ کرائی گئی تو رپورٹ میں برڈ فلو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

ضلع مویشی پروری افسر انجلی کماری نے سرکاری طور پر اس کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ مردہ کوؤں کے نمونے جانچ کے لیے پٹنہ اور بھوپال کی اعلیٰ سطحی لیبارٹریوں میں بھیجے گئے تھے، جہاں سے موصول ہونے والی رپورٹ میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔

رپورٹ سامنے آتے ہی ضلع انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ موڈ میں آ گئی ہے۔ متاثرہ علاقے کے چاروں طرف 10 کلو میٹر کے دائرے میں سینیٹائزیشن مہم شروع کر دی گئی ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں موجود تمام پولٹری فارموں سے نمونے جمع کیے جا رہے ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے تحت ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے تاکہ انسانی صحت کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔


قابل ذکر ہے کہ 11 جنوری کی صبح معمول کی سیر کے لیے نکلنے والے لوگوں نے ایک ہی مقام پر درخت کے نیچے 150 سے زائد مردہ کوے دیکھے تھے۔ بعض کوے تڑپتی حالت میں بھی پائے گئے، جس سے مقامی باشندوں میں خوف اور بے چینی پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کی ٹیم موقع پر پہنچی اور تمام مردہ پرندوں کو حفاظتی ضابطوں کے تحت ہٹا دیا گیا۔

بعد ازاں محکمہ جنگلات اور محکمہ مویشی پروری کی مشترکہ ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نمونے جمع کیے۔ ان نمونوں کو جانچ کے لیے اعلیٰ سطحی لیبارٹری بھیجا گیا۔ بھوپال سے موصول رپورٹ میں برڈ فلو کی تصدیق ہوتے ہی انتظامی مشینری حرکت میں آ گئی۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق فی الحال صورتحال قابو میں ہے، تاہم احتیاطی اقدامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔ صحت اور مویشی پروری کے محکمے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، صفائی کا خیال رکھیں اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔