بلقیس بانو ریپ: ’ثبوت خرد برد کرنے کے مجرم پولس والوں پر کارروائی کرے گجرات حکومت‘

سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو دو ہفتہ کا وقت دیتے ہوئے حکم دیا کہ بلقیس بانو اجتماعی آبرو ریزی معاملہ کی تفتیش سے چھیڑ چھاڑ کرنےکے قصوروار پولس والوں پر تادیبی کارروائی کی ۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ

قومی آوازبیورو

سال 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کی تفتیش سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے معاملہ میں گجرات ہائی کورٹ کی طرف سے قصور وار قرار دئے گئے پولس والوں پر ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہ کرنے کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے جمعہ کو سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ مجرم قرار دئے گئے 6 پولس والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے اور دو ہفتوں کے اندر عدالت عظمی کو رپورٹ پیش کرے کہ اس نے کیا کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے!

اس کے علاوہ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی صدارت والی بینچ نے کہا ہے کہ بلقیس بانو کی معاوضی کی رقم میں اضافہ کی درخواست سے متعلق عرضی پر 23 اپریل کو سماعت کی جائے گی۔ بینچ میں جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس دیپک کھنہ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے 4 مئی 2017 کو آئی پی سی کی دفعہ 218 (اپنے فرض کی انجام دہی میں لاپروائی) اور دفعہ 201 (ثبوتوں کو خرد برد کرنا) کے تحت 5 پولس اہلکاروں اور 2 ڈاکٹروں کو مجرم قرار دیا تھا۔

گجرات میں گودھرا ٹرین کے ڈبے میں آتشزدگی کے بعد بھڑکے مسلم مخالف فسادات کے دوران سال 2002 میں داہود کے نزید واقع دیو گڑھ بریا گاؤں میں فسادی ہجوم نے بلقیس بانو اور اس کے خاندان پر حملہ کیا تھا۔ ہندو شرپسندوں کے مشتعل ہجوم نے خاندان کے آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جن میں 4 خواتین اور چار بچے شامل تھے، جبکہ خاندان کے 6 افراد کی لاشیں بھی نہیں مل پائیں۔ اسی دوران شرپسندوں نے بلقیس بانو کی اجتماعی آبرو ریزی بھی کی، المیہ یہ کہ بلقیس بانو اس وقت حاملہ تھیں۔

Published: 29 Mar 2019, 7:10 PM