بہار میں تبدیلی کی لہر، الیکشن کمیشن پر راہل گاندھی کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں: سچن پائلٹ

سچن پائلٹ نے ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے دوران الیکشن کمیشن پر سوال اٹھائے اور کہا کہ کمیشن راہل گاندھی کے شواہد کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ عوام ووٹ چوری کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور بہار میں تبدیلی کی لہر ہے

<div class="paragraphs"><p>سچن پائلٹ / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار میں جاری ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے دوران کانگریس رہنما سچن پائلٹ نے بتیا میں الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے متعدد ریاستوں میں ووٹر لسٹ میں ہوئی گڑبڑی کے ٹھوس ثبوت پیش کیے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ پائلٹ نے الزام لگایا کہ جب کمیشن سے شفافیت کے مطالبے کیے جاتے ہیں تو بجائے ثبوت فراہم کرنے کے، الٹا حلف نامہ طلب کیا جاتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ ’’بہار میں جو یہ یاترا نکلی ہے، عوام الیکشن کمیشن سے سوال کر رہی ہے کہ ووٹ چرا کر کس مقصد کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد سامنے رکھے ہیں، اس کے باوجود کمیشن خاموش ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بہار کے عوام سمجھدار ہیں اور لاکھوں نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش کے خلاف عوامی سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔

پائلٹ نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب ہم کمیشن سے سوال کرتے ہیں تو جواب بی جے پی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن کے رویے میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام اب فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ شفاف اور آزادانہ انتخابات چاہتے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے یہ یاترا عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔


اس موقع پر آر جے ڈی رہنما منوج کمار جھا نے بھی کمیشن کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب کسی ملک میں انتخابی طریقۂ کار پر سوالیہ نشان لگتا ہے تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی غلطیوں پر اسے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے مطابق ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ اب کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے بہار کی آواز بن چکی ہے اور اس کی گونج دوسرے صوبوں تک بھی پہنچے گی۔

دریں اثنا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے اعلان کیا کہ یکم ستمبر کو اس یاترا کے اختتام پر پٹنہ میں بڑی ریلی کی جگہ اب پد یاترا نکالی جائے گی۔ یہ پد یاترا گاندھی میدان کی گاندھی مورتی سے شروع ہو کر ہائی کورٹ کے قریب واقع امبیڈکر مورتی تک جائے گی، جس میں راہل گاندھی اور تیجسوی یادو سمیت بڑی تعداد میں کارکن شریک ہوں گے۔

’ووٹر ادھیکار یاترا‘ نے بہار کی سیاست میں نئی جان ڈال دی ہے اور اپوزیشن اس کے ذریعے انتخابی عمل میں شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو مرکزی موضوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاست میں بڑے تغیرات ممکن ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔