بہار ووٹ شماری: 50 سے زائد سیٹوں پر مقابلہ دلچسپ، ووٹوں کا فرق 500 سے بھی کم

اس وقت سبھی اسمبلی سیٹوں پر 10 سے 15 راؤنڈ کی ووٹ شماری ہو چکی ہے اور 8 سے 10 سیٹیں ایسی ہیں جہاں ووٹوں کا فرق 200 سے بھی کم ہے۔ کچھ سیٹوں پر تو یہ فرق 10 ووٹوں اور 65 ووٹوں کا بھی بتایا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بہار کی 243 اسمبلی سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ 2 بج چکے ہیں اور میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اس وقت تقریباً 25 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی جو خبریں موصول ہوئی ہیں، اس کے مطابق ایک بجے تک تقریباً 92 لاکھ ووٹوں کی ہی گنتی ہوئی ہے جب کہ 4.10 کروڑ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو ابھی کافی ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے اور مہاگٹھ بندھن و این ڈی اے میں سے کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔

اس وقت این ڈی اے اکثریت حاصل کرتا ہوا ضرور نظر آ رہا ہے لیکن مہاگٹھ بندھن اس کو زبردست مقابلہ دے رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 50 سے زائد سیٹیں ایسی ہیں جہاں مقابلہ انتہائی دلچسپ ہے اور آگے چل رہے امیدوار 500 سے کم ووٹوں کے فرق سے ہی سبقت بنائے ہوئے ہیں۔ 90 سے زائد سیٹیں ایسی ہیں جہاں 1000 سے کم ووٹوں کے فرق سے امیدوار آگے یا پیچھے ہیں۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ کورونا وبا کی وجہ سے پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کافی بڑھائی گئی تھی جس کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی کئی اسمبلی سیٹوں پر 30 سے 35 راؤنڈ میں ہوگی۔ اس وقت سبھی اسمبلی سیٹوں پر 10 سے 15 راؤنڈ کی ووٹ شماری ہو چکی ہے اور 8 سے 10 سیٹیں ایسی ہیں جہاں ووٹوں کا فرق 200 سے بھی کم ہے۔ کچھ سیٹوں پر تو یہ فرق 10 ووٹوں اور 65 ووٹوں کا بھی بتایا جا رہا ہے۔ مثلاً قصبہ اسمبلی سیٹ پر تو محض 5 ووٹوں کا فرق ہے۔ گویا کہ ہر راؤنڈ میں حالات بدل رہے ہیں، اور اس طرح سے دیکھا جائے تو شروعاتی رجحانوں میں مہاگٹھ بندھن نے جس طرح سے اکثریت حاصل کی تھی، اور پھر این ڈی اے نے سبقت بنا لی، آگے بھی کسی الٹ پھیر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next