عصمت دری کے ملزم کو انوکھی سزا، 6 مہینے تک خواتین کے کپڑے مفت دھونے ہوں گے

چونکہ ملزم پیشے کے اعتبار سے ایک دھوبی ہے،لہذا عدالت نے اسے 6 ماہ تک خواتین کے کپڑے مفت میں دھونے اور استری کرنے کی سزا سنائی ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

مدھوبنی: بہار کے مدھوبنی میں اے ڈی جے کورٹ نے عصمت دری کے ملزم کو ایک انوکھی سزا دی ہے۔ چونکہ ملزم پیشے کے اعتبار سے دھوبی ہے ، لہذا جج نے اسے اگلے 6 ماہ تک خواتین کے کپڑے مفت میں دھونے اور استری کرنے کی سزا سنائی ہے۔ جھنجھار ر پور کورٹ کے اے ڈی جے اویناش کمار نے ملزم للن کمار کو اسی شرط پر ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

بیس سالہ للن کمار پر 17 اپریل کو ایک خاتون کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور عصمت دری کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔ اسے 19 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں چارج شیٹ بھی دائر کی جا چکی ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتہ بھی ہو گیا ہے۔ عدالت میں ملزم للن کمار کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کا موکل اپنے پیشے کے ذریعے سماج کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔


اس بنیاد پر اے ڈی جے اویناش کمار نے ایک انوکھا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے گاؤں کی تمام خواتین کے کپڑے دھونے اور استری کرنے کی شرط پر ملزم کو ضمانت دی ہے۔ عدالت نے ملزم کو اس کی مفت سماجی خدمات کے لئے مکھیا، سرپنچ کا سرکاری افسر کے ذریعے سند بھی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم نوجوان مفت میں خدمت کر رہا ہے یا نہیں اس پر نظر رکھنے کے لیے ضمانت کی ایک کاپی گاؤں کے سرپنچ اور مکھیا کو بھی بھیجی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اے ڈی جے اویناش کمار اپنے منفرد فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس سال اپریل میں ایک ٹیچر نے کوویڈ کے دور میں بھی اسکول کھولا تھا، اسے جج اویناش کمار نے اس شرط پر ضمانت دی تھی وہ پہلی سے پانچویں جماعت کے 5 غریب بچوں کو تین ماہ تک مفت میں پڑھائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مار پیٹ کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو اس شرط پر ضمانت دی تھی کہ وہ اپنے گھر کے ارد گرد موجود نالوں کی صفائی کرے گا۔


گزشتہ سال ستمبر میں انہوں نے ایک ملزم کو اس شرط پر ضمانت دی تھی کہ وہ ایک ماہ تک مندر میں معمار کے طور پر کام کرے گا۔ اسی طرح انہوں نے مئی 2021 سے جیل میں قید ملزم راجیو کمار اور نتیش کمار کو اس شرط پر ضمانت دی کہ وہ سیلاب متاثرین کو مفت میں دالیں فراہم کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔