بہار: تیجسوی اور تیج پرتاپ کے درمیان تکرار سے خراب ہو رہی آر جے ڈی کی شبیہ

تیج پرتاپ نے پیر کے روز لوک نایک جے پرکاش نارائن کی جینتی کے موقع پر اپنی تنظیم ’چھاتر جن شکتی پریشد‘ کے بینر تلے پٹنہ میں مارچ نکالا، لیکن اس میں تیجسوی یادو کی شرکت دیکھنے کو نہیں ملی۔

تیجسوی اور تیج پرتاپ، تصویر یو این آئی
تیجسوی اور تیج پرتاپ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کچھ مہینے پہلے تک خود کو ’کرشن‘ اور چھوٹے بھائی تیجسوی یادو کو ’ارجن‘ بتانے والے تیج پرتاپ یادو ان دنوں ’باغی‘ نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ آر جے ڈی لیڈر اس معاملے میں زیادہ کھل کر نہیں بول رہے ہیں، لیکن دونوں بھائیوں کے رویہ سے مانا جا رہا ہے کہ آر جے ڈی میں اقتدار کی جدوجہد شروع ہو گئی ہے۔

تیج پرتاپ نے پیر کے روز لوک نایک جے پرکاش نارائن کی جینتی کے موقع پر اپنی تنظیم ’چھاتر جن شکتی پریشد‘ کے بینر تلے پٹنہ میں مارچ نکالا۔ اس دوران تیج پرتاپ گاندھی میدان سے جے پی آواس تک ننگے پیر یاترا میں شامل ہوئے۔ یاترا کے دوران انھوں نے کسی سے بھی نااتفاقی سے انکار کیا۔ دوسری طرف جب تیجسوی یادو سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے نپے تلے الفاظ میں کہا کہ ایسی یاترا ہونی چاہیے، سبھی کو مبارکباد۔


قابل ذکر ہے کہ اتوار کے روز سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی بھی دہلی سے واپس پٹنہ لوٹی ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ دونوں بھائیوں میں چل رہی رسہ کشی کو ختم کرنے کے لیے ہی پٹنہ پہنچی ہیں۔ پٹنہ آنے کے بعد وہ اتوار کو تیج پرتاپ کی رہائش بھی گئیں، لیکن ان سے ملاقات نہیں ہو پائی۔

اس درمیان تیج پرتاپ یادو پیر کی شام اپنی ماں رابڑی دیوی کی رہائش پر ملنے ضرور پہنچے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ 15 منٹ میں ہی واپس لوٹ گئے۔ پھر باہر نکلنے کے بعد تیج پرتاپ نے کسی سے بھی بات نہیں کی۔ ایسے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ دونوں بھائیوں میں رسہ کشی مستقبل قریب میں ختم ہونے کی امید نہیں ہے۔


دونوں بھائیوں میں تکرار کا اثر پارٹی پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ پارٹی کے لیڈر بھی کشمکش میں دکھائی دے رہے ہیں۔ آر جے ڈی کے ایک لیڈر نے بھی نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’دونوں بھائیوں میں رنجش کا پیغام لوگوں میں جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں تیج پرتاپ نے بغیر کسی کا نام لیے لالو پرساد کو دہلی میں یرغمال بنانے کی بات تک کہہ دی تھی۔‘‘

بہار میں دو سیٹوں پر ہو رہے ضمنی انتخاب میں تاراپور سے آزاد امیدوار سنجے کمار یادو نے نامزدگی کا پرچہ داخل کر دیا۔ انھوں نے خود کو چھاتر جن شکتی پریشد کا افسر بتا کر یہ بھی کہا کہ تیج پرتاپ یادو ان کے لیے انتخابی تشہیر کریں گے۔ بعد میں حالانکہ تیجسوی نے سنجے کو آر جے ڈی میں شامل کرا کر تیج پرتاپ کی منشا پر پانی پھیر دیا ہے۔ سنجے اب نامزدگی واپس لے کر تاراپور سے آر جے ڈی امیدوار کی حمایت میں آ گئے ہیں۔


اس سے قبل پارٹی کے قومی نائب صدر شیوانند تیواری نے تیج پرتاپ کو یہ کہہ کر کہ وہ تو پارٹی سے پہلے ہی الگ ہو چکے ہیں، ان کے لیے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا تھا۔ اس کے بعد ضمنی انتخاب کے لیے اسٹار کیمپنروں کی فہرست سے تیج پرتاپ یادو، ماں رابڑی دیوی اور بہن میسا بھارتی کا نام ہٹا دیا گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ تیج پرتاپ چاہتے ہیں کہ تیجسوی اپنے سارے مشیروں اور قریبی لوگوں کو ہٹا دیں۔ تیج پرتاپ چاہتے ہیں کہ تیجسوی کے مشیر سنجے یادو، آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ سمیت کئی دیگر اہم لوگ پارٹی اور رہائش سے چلتا کر دیئے جائیں، جو تیجسوی کو منظور نہیں ہے۔ تیج پرتاپ ان ایشوز کو لے کر کھل کر بیان بھی دے چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں مانا جا رہا ہے کہ دونوں بھائیوں میں کھنچی لکیر بڑی ہوتی جا رہی ہے، جو آر جے ڈی کے لیے بھی اچھا اشارہ نہیں تصور کیا جا رہا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔