سی اے اے-این آر سی کے خلاف بلا تفریق مذہب ’ہاتھ میں ہاتھ‘ ڈالے نظر آیا پورا بہار

امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پوری طرح سے آئین مخالف ہے۔ انسانی زنجیر بنا کر ہم حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس سیاہ قانون کو واپس لے۔

تصویر شیث احمد
تصویر شیث احمد
user

شیث احمد

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف بہار میں آج ایک تاریخ رقم کی گئی جب دوپہر 2 بجے سے 4 بجے کے درمیان لاکھوں کی تعداد میں مرد، خواتین، بوڑھے اور بچے اپنے گھروں سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی ہر مذہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک ایسی انسانی زنجیر بنائی جس کی طوالت ایک نظیر بن گئی۔ راجدھانی پٹنہ، سیتامڑھی، مظفر پور، دربھنگہ جیسے شہروں میں 'مودی تیری تاناشاہی- نہیں چلے گی، نہیں چلے گی'، 'انقلاب زندہ باد' اور 'کالا قانون واپس لو' کے نعرے بلند ہوتے نظر آئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بہار میں نتیش حکومت کے ذریعہ بنائی گئی گزشتہ انسانی زنجیر کے مقابلے اس مرتبہ لوگوں میں زیادہ جوش نظر آ رہا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ شہریت قانون کے نافذ ہونے سے لوگ کس قدر پریشان ہیں۔

بہار میں بایاں محاذ پارٹیوں کے ذریعہ انسانی زنجیر بنائے جانے کے فیصلہ کے بعد مودی حکومت کے سیاہ قانون کی مخالفت میں کم و بیش 35 سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں نے اس احتجاجی مظاہرہ کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس کا اثر آج بھرپور طریقے سے دیکھنے کو ملا۔ امارت شرعیہ، پھلواری شریف کے ذریعہ اپیل کا بھی خاطرخواہ اثر آج کے انسانی زنجیر میں دیکھنے کو ملا اور یقیناً یہ انسانی زنجیر مودی حکومت کے ساتھ ساتھ نتیش حکومت کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ خود امارت شرعیہ کے ذمہ داران بھی اس احتجاجی مظاہرہ میں بھرپور طریقے سے شامل ہوئے اور 'قومی آواز' کے نمائندہ سے بات چیت کے دوران امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے کہا کہ "ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس ملک کے حکمرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ عوام کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ اچھے حکمرانوں کی یہ شناخت رہی ہے کہ اگر وہ کوئی قانون لاتے ہیں اور عوام اس کے خلاف احتجاج کرتی ہے تو عوامی مفاد میں فیصلے واپس لیے جاتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پوری طرح سے عوام مخالف اور ہندوستانی آئین کے خلاف ہے اس لیے ہم انسانی زنجیر بنا کر حکومت کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اپنا یہ سیاہ قانون واپس لے۔"

ایک سوال کے جواب میں مولانا شبلی القاسمی کہتے ہیں کہ "بہار حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ این پی آر کا بائیکاٹ کرے اور جو مردم شماری کا طریقہ پہلے سے ہوتا رہا ہے اسی کے مطابق این پی آر ہو۔ این آر سی تو بہت دور کی بات ہے، یہاں کی عوام این پی آر کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ قانون انتہائی خطرناک ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے وکیل سی اے اے کے خلاف میں کھڑے ہو گئے ہیں تو آپ اس کی خطرناکی کا احساس کر سکتے ہیں۔ عوام متحد ہو کر بہار سرکار سے مطالبہ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ وہ مرکزی حکومت پر دباؤ بنائے کہ اس قانون کو واپس لے اور این پی آر کو بھی بہار میں نافذ نہیں کرے۔"

پٹنہ میں انسانی زنجیر کا حصہ بنے ایک شخص نے شہریت قانون کو ہندوستانی آئین کے لیے مضر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس وقت تک سڑکوں پر مظاہرہ کرتے رہیں گے جب تک کہ اسے واپس نہیں لے لیا جاتا۔ وہ اس بات سے بھی کافی ناراض تھا کہ نتیش کمار شہریت قانون کے حق میں کھڑے ہوئے ہیں۔ 'قومی آواز' سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ "نتیش کمار اگر شہریت ترمیمی قانون کے حق میں ہیں تو انھیں سمجھنا چاہیے کہ عوام ان کے خلاف کھڑی ہو جائے گی۔ شہریت قانون ملک پر خطرہ ہے اور ہندوستانی آئین پر حملہ ہے۔ ہندوستانی آئین ہمیں کسی مذہب کے خلاف لڑنے سے روکتی ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ اس قانون کے خلاف سبھی مذاہب کے لوگ کھڑے ہیں۔"

پھلواری شریف میں بنی انسانی زنجیر کا حصہ بنے ایک فرد نے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے نتیش کمار کو متنبہ کیا کہ وہ سنبھل جائیں ورنہ عوام انھیں سبق سکھائے گی۔ اس نے کہا کہ "سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہر مذہب کے لوگ مل کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر نتیش جی سوچتے ہیں کہ سی اے اے-این آر سی-این پی آر کے خلاف وہ ہمارا ساتھ نہیں دیں گے تو یہ جان لیں کہ آنے والے الیکشن میں انھیں کوئی ووٹ دینے والا نہیں۔ نتیش جی اگر اس قانون کی حمایت کر رہے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ وہ جو بار بار پلٹو رام بن جاتے ہیں، اب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔"

آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران و کارکنان بھی آج انسانی زنجیر کا حصہ بنے ہوئے نظر آئے۔ آر جے ڈی لیڈر دیو کشن ٹھاکر نے اس موقع پر 'قومی آواز' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "پورے ہندوستان میں ایک غصہ کا ماحول برپا ہو گیا ہے۔ اس غصہ کے سامنے بھارت سرکار ہو یا ریاستی سرکار، اس کو جھکنا پڑے گا۔ اتنا سخت قانون آج تک ہم نے نہیں دیکھا اور انگریزوں نے بھی اتنا کڑا قانون نہیں بنایا تھا۔"

آج سڑکوں پر اسکول کے بچوں کی تعداد دیکھنے لائق تھی کیونکہ سبھی اسکولی لباس میں نظر آ رہے تھے اور حب الوطنی پر مبنی نغمے بھی گنگنا رہے تھے۔ کئی مقامات پر اسکولی بچے انقلابی نعرے بلند کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ پردہ نشیں خواتین کی بھی بڑی تعداد پٹنہ کے عالم گنج، سبزی باغ، پتھر کی مسجد وغیرہ علاقوں میں دیکھنے کو ملی۔ کئی جگہ پر تو لوگوں کی اتنی زیادہ بھیڑ جمع نظر آ رہی تھی کہ ایک ہی سڑک پر دونوں جانب انسانی زنجیر بنی ہوئی نظر آنے لگی۔