بی جے پی رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی کی ایمبولنس پھر تنازعہ کا شکار، 280 لیٹر شراب کے ساتھ بہار پولیس نے پکڑا

پولیس کے ایک افسر نے بدھ کے روز بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شیام چک محلے میں ایمبولنس کی تلاشی لی گئی، جس میں 280 لیٹر دیسی شراب برآمد کی گئی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار کے سارن ضلع کے بھگوان بازار تھانہ حلقہ سے پولیس نے 280 لیٹر دیسی شراب لدی ایک ایمبولنس ضبط کی ہے۔ یہ ایمبولنس رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی کے ایم پی فنڈ سے خریدی گئی تھی اور اس کو چلانے کی ذمہ داری ایک کمیٹی کو دی گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ایمبولنس ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے ایک افسر نے بدھ کے روز بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شیام چک محلے میں ایمبولنس کی تلاشی لی گئی، جس میں 280 لیٹر دیسی شراب برآمد کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ایمبولنس ڈرائیور ڈوری گنج تھانہ حلقہ کے چکیا گاؤں باشندہ راکیش رائے کو گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ شراب اسمگلنگ میں شامل ایمبولنس سوار ایک اسمگلر فرار ہو گیا۔


بھگوان بازار کے تھانہ انچارج مکیش کمار جھا نے بتایا کہ اس معاملے کی ایک ایف آئی آر بھگوان بازار تھانہ میں درج کر لی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ڈرائیور راکیش رائے، تیلپا گاؤں باشندہ کے سوگو رائے اور صدر ڈویژن کے کوٹواں پٹی رام پور کے مکھیا جے پرکاش سنگھ کو نامزد اور ایک دیگر نامعلوم کو ملزم بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کر رہی ہے۔

ادھر اس واقعہ کے بعد رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی نے ایمبولنس کا انتظام و انصرام دیکھنے والی کمیٹی پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے اس کارروائی کے لیے پولیس ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایمبولنس سے شراب برآمد ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ انھوں نے کمیٹی پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی مدد کے لیے ایمبولنس دی گئی ہے نہ کہ شراب ڈھونے کے لیے۔ انھوں نے کہا کہ ایمبولنس کی خریداری کر کے اس کو چلانے کے لیے صدر ڈویژن کے کوٹواں پٹی رام پور پنچایت کے مکھیا جے پرکاش سنگھ کو سونپ دی گئی تھی۔ وہی پنچایت سطح کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔


غور طلب ہے کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی کے ایم پی فنڈ سے خریدی گئی ایمبولنس اس سے پہلے بھی موضوع بحث رہی ہے۔ دراصل کورونا کی دوسری لہر کے دوران جب لوگ اسپتال جانے کے لیے ایمبولنس کے لیے در در بھٹک رہے تھے اور ان سے ہزاروں روپے وصولے جا رہے تھے، تو سابق رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے روڑی کے ذریعہ خریدی گئی کئی ایمبولنس کو احاطہ میں چھپا کر رکھنے کا انکشاف کیا تھا۔ ساتھ ہی ان ایمبولنس سے اینٹ اور بالو ڈھونے کے بھی الزامات لگے تھے۔ اب ان میں سے ایک ایمبولنس سے شراب برآمد ہونے کے بعد ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔