نتیش-تیجسوی میٹنگ سے بہار کی سیاست میں ہلچل، بی جے پی کے ہوش اڑے!

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور اسمبلی میں حزب مخالف لیڈر تیجسوی یادو کی منگل کے روز ہوئی 20 منٹ کی میٹنگ نے صوبے کی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور اسمبلی میں حزب مخالف لیڈر تیجسوی یادو کے درمیان منگل کو ہوئی 20 منٹ کی ملاقات نے صوبے کی سیاست میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ دراصل منگل کو بہار اسمبلی میں قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) کے خلاف تو قرارداد پاس کی ہی، ساتھ ہی ساتھ قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے تعلق سے بھی قرارداد پاس کر دی۔ اس قرارداد کی جنتا دل یو اور آر جے ڈی دونوں پارٹیوں نے حمایت کی۔ کہا جا رہا ہے کہ اسمبلی میں قرارداد پاس ہونے کے پیچھے 20 منٹ کی وہ ملاقات ہے جو وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور حزب مخالف لیڈر تیجسوی یادو کے درمیان ہوئی۔

خبروں کے مطابق اسمبلی کے کمرے میں منگل کو حزب مخالف لیڈر تیجسوی یادو اور عبدالباری صدیقی وزیر اعلیٰ سے ملنے پہنچے۔ کمرے میں پہلے سے ہی کانگریس کے لیڈر اودھیش سنگھ بیٹھے ہوئے تھے۔ تیجسوی کے آتے ہی سبھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ پیچھے بنے کمرے میں چلے گئے جہاں 20 منٹ تک یہ میٹنگ چلی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد اسپیکر وجے کمار چودھری نے ایوان میں این پی آر اور این آر سی سے متعلق قرارداد پاس ہونے کا اعلان کر دیا۔

پاس کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بہار میں این آر سی کی ضرورت نہیں ہے۔ وہیں این پی آر کو 2010 کے فارمیٹ کی بنیاد پر نافذ کرنے کا مشورہ مرکزی حکومت کو بھیجا گیا ہے۔ بتا دیں کہ آر جے ڈی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ آر جے ڈی کا مطالبہ ہے کہ اسے واپس لیا جائے۔ ایسے میں نتیش کمار اور تیجسوی یادو کی ملاقات کے بعد جو کچھ ہوا ہے اس پر بحث ہر طرف ہو رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے حساب سے اس پر اندازہ لگا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر 20 منٹ کی ملاقات میں نتیش کمار سے تیجسوی یادو کی ایسی کیا بات ہوئی کہ وزیر اعلیٰ این آر سی کے خلاف قرارداد پاس کرنے کو تیار ہو گئے۔ حالانکہ نتیش کمار پہلے سے ہی کہتے رہے ہیں کہ بہار میں این آر سی کی ضرورت نہیں ہے۔ بہار اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس کو لے کر بی جے پی حیران اور پریشان ہے۔

واضح رہے کہ این پی آر پر ایوان میں بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا تھا کہ انھوں نے 15 فروری کو مرکزی حکومت کو خط لکھ کر مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو 2020 کے این پی آر کے فارمیٹ پر اعتراض ہے۔ اس لیے اس بار بھی 2010 کے فارمیٹ کی بنیاد پر ہی این پی آر کرایا جائے۔ انھوں نے ٹرانسجنڈر کے لیے الگ مردم شماری کرنے کے فارمیٹ کو اس میں شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے جو 2010 میں نہیں تھا۔ نتیش کمار نے ایوان میں کہا کہ اپوزیشن اگر چاہے تو ان کے اس خط کو قرارداد کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے۔