بہار: کاماکھیا ایکسپریس کے اے سی کوچ میں بڑی چوری، کسی کا فون تو کسی کا پرس غائب

ہرداس بیگھا اسٹیشن کے نزدیک صبح تقریباً 4:30 بجے 15623 ڈاؤن کاماکھیا ایکسپریس میں کچھ بدمعاشوں نے اندھیرا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری کے واقعہ کو انجام دیا، اس کے بعد چین پولنگ کر فرار ہو گئے۔

<div class="paragraphs"><p> تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اگر آپ ٹرین میں سفر کرتے ہیں تو تھوڑا محتاط رہیں۔ اِن دنوں اے سی کوچ میں بھی چوری کے واقعات پیش آنے لگے ہیں۔ تازہ ترین معاملہ کاماکھیا ایکسپریس سے متعلق ہے۔ جمعرات (8 جنوری) کی صبح پٹنہ سے قریب 30 کلومیٹر مشرق میں ہرداس بیگھا اسٹیشن کے پاس کاماکھیا ایکسپریس میں زبردست چوری ہوئی ہے۔ اس کے بعد بدمعاش ہرداس بیگھا میں چین پولنگ کر فرار ہو گئے۔ واقعہ کے بعد میڈیا کے سامنے مسافروں نے پوری بات بتائی۔ حالانکہ ریل پولیس اس پورے معاملہ پر خاموش ہے۔ اس کو لے کر مسافروں میں کافی ناراضگی دیکھنے کو ملی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہرداس بیگھا اسٹیشن کے نزدیک صبح تقریباً 4:30 بجے 15623 ڈاؤن کاماکھیا ایکسپریس میں کچھ بدمعاشوں نے اندھیرا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری کے واقعہ کو انجام دیا۔ اس میں قریب نصف درجن بدمعاش شامل تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ ہرداس بیگھا میں چین پولنگ کر آرام سے اتر کر فرار ہو گئے۔ یہ ہفتہ وار ٹرین پٹنہ کے بعد نیو برونی جنکشن پر رکتی ہے۔


اس ٹرین میں جودھپور سے کاماکھیا کا سفر کر رہے کملیش کمار نے ریل مدد ایپ سے آر پی ایف کو واقعہ کے متعلق اطلاع دی۔ بتایا گیا کہ ٹرین کے اے سی کوچ (بی-1، بی-6، اے-1 اور اے-2) میں سفر کرنے والے مسافروں کا پرس اور سامان غائب ہوا ہے۔ واقعہ کے بعد ریلوے پولیس اور پٹنہ کے ریل ایس پی اور پٹنہ ریلوے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تک اس پورے معاملے میں انجان بنے ہوئے ہیں۔

بنارس سے سلی گوڑی کا سفر کر رہے رشبھ کمار نے کہا کہ ان کا پرس، موبائل اور چین ملا کر تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے کا سامان چوری ہوا ہے۔ جب انہوں نے اٹینڈنٹ سے بات کی تو اس نے کہا کہ اس ٹرین میں آئے دن پٹنہ سے کٹیہار کے درمیان چوری ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرین پٹنہ سے کراس کر رہی تھی۔ ایک دیگر مسافر نے بتایا کہ ’’میرا پورا بیگ لے کر چلا گیا ہے۔۔۔ اس میں پیسے، موبائل فون اور دوائیاں تھیں۔ دوائیاں نہ ملنے سے مجھے زیادہ پریشانی ہوگی۔ ہم لوگ اے سی بوگی میں اتنے پیسے دے کر اس لیے آتے ہیں کہ محفوظ رہیں، لیکن سیکورٹی نہیں ملتی ہے۔ نہ تو جی آر پی اور نہ ہی آر پی ایف کے جوان نظر آتے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔