بہار: خاندانی شیرازہ منتشر ہونے سے بچانے کے لئے جماعت اسلامی ہند کا اقدام، فیملی کاؤنسلنگ سنٹر قائم کرنے کی تیاری

ازدواجی زندگی کو ٹوٹنے اورخاندانی شیرازے کو بکھرنے سے بچانے کے لئے جماعت اسلامی ہند بہار فی الحال ریاست کے نو مقامات پر فیملی کاؤنسلنگ سنٹر قائم کرے گی

فائل تصویر / قومی آواز
فائل تصویر / قومی آواز
user

یو این آئی

پٹنہ: ازدواجی زندگی کو ٹوٹنے اورخاندانی شیرازے کو بکھرنے سے بچانے کے لئے جماعت اسلامی ہند بہار فی الحال ریاست کے نو مقامات پر فیملی کاؤنسلنگ سنٹر قائم کرے گی۔ پٹنہ واقع مرکز اسلامی میں فیملی کاؤنسلنگ پر منعقدہ دو روزہ ورکشاپ کے اختتام پر جمعرات کواپنے خطاب میں امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ فیملی کاؤنسلنگ سنٹر کا قیام جماعت اسلامی ہند بہار کے میقاتی منصوبہ میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاؤنسلنگ کے ذریعہ رشتوں میں پڑچکے دراڑ کو پاٹنے کی کوشش کی جائے گی۔ امیرحلقہ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر جماعت اسلامی کے ارکان و کارکنان کے لئے کاؤنسلنگ کے پروفیشنل کورس کا نظم کیا جائے گا۔ جن نو مقامات پر فیملی کاؤنسلنگ سنٹر قائم کئے جائیں گے ان میں پٹنہ، دربھنگہ، مظفرپور، ارریہ، بہارشریف، موتیہاری، سمستی پور، رام نگر اور ہسوا شامل ہیں۔


اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبہ اسلامی معاشرہ کے سکریٹری مولانا رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ موجودہ دور میں مختلف اسباب کی بنا پر خاندانی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ شادی کے فوراًبعد شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات شروع ہو جاتے ہیں۔دونوں فریقین کے سرپرست یا رشتہ داروں کے ناقص مشورے،بے جا مداخلت اور انانیت کی وجہ سے یہ اختلافات مزید پیچیدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ بروقت کاؤنسلنگ سے حالات کو بگڑنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اسی کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند نے پورے ملک میں فیملی کاؤنسلنگ سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں کافی تعداد میں فیملی کاؤنسلنگ سنٹرقائم ہو چکے ہیں۔ مولانا ندوی نے کہا کہ کاؤنسلنگ سنٹر میں قرآن و حدیث اور شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔ الحمدللہ اس کے کافی اچھے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

ورکشاپ میں مختلف مقامات سے شرکت کرنے آئے ارکان و کارکنان جماعت کو فیملی کاونسلنگ سنٹر کے قیام کے طریقہ کار، اصول و ضوابط اور کاونسلر کے لئے ضروری خصوصیات کی معلومات فراہم کی گئیں۔ اپنے خطاب میں جماعت اسلامی ہند کے شعبہ ایچ آرڈی کے اسسٹنٹ سکریٹری عتیق الرحمان نے کہا کہ کا ونسلنگ ایک آرٹ ہے۔ کاونسلر کا کام اپنے کلائنٹ کو فیسیلیٹیٹ کرنا ہے۔کاونسلر کی حیثیت سمندر کنارے واقع لائٹ ہاوس جیسی ہوتی ہے جو کپتان کومختلف سمتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔


امارت شرعیہ بہار کے معاون قاضی مولانا وصی احمد نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں خاندان کے تنازعہ کے حل کے لئے بہترین تدبیر بتائی ہے۔ بہتر ہے کہ زوجین اپنے اختلافت کودور کرنے کی خود ہی پہل کریں۔ اگر تب بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کاونسلر اپنا رول ادا کرے۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دارالقضا میں زیادہ تر معاملے فسق نکاح، طلاق اور خلع کے آرہے ہیں۔

شعبہ اسلامی معاشرہ حلقہ بہار کے سکریٹری مولانا لطف اللہ قادری نے کہا کہ آج کل زوجین میں عدم بردشت کا رجحان پایا جارہا ہے۔ تنازعہ کی اصل وجہ اپنا حق حاصل کرنے پر زور دینا اور اپنی ذمہ داری سے چشم پوشی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی بھی کاو کونسلنگ ضروری ہے۔

ورکشاپ میں خواتین نے بھی پوری سرگرمی سے شرکت کی۔ اس موقع پرشعبہ خواتین کی معاون ناظمہ بہار ڈاکٹر زیبائش فردوس نے ’ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے طریقے‘شاذیہ احسن نے ’فیملی تنازعات میں خواتین کی کاونسلنگ‘ اور رضیہ خاتون نے فیملی تنازعات میں زوجین کی کاونسلنگ‘ پر اپنے لکچر پیش کئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔