بہار: دربھنگہ میں 6 سالہ بچی سے درندگی کے بعد پیدا تشدد معاملہ میں 30 نامزد سمیت 230 لوگوں پر ایف آئی آر
پولیس جانچ میں سامنے آیا ہے کہ کلیدی ملزم وکاس مہتو پیشہ سے ٹمپو ڈرائیور ہے۔ وہ نشہ کا عادی ہے، جس کی وجہ سے اس کی 3 بیویاں اسے چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ فی الحال وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے۔

بہار کے دربھنگہ میں 6 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ اس واقعہ کے خلاف تشدد اور پولیس پر پتھراؤ کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس میں یونیورسٹی تھانہ پولیس نے تھانہ انچارج کے بیان پر 30 نامزد اور 200 نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس فی الحال سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر شورش پسندوں کی شناخت کرنے میں مصروف ہے۔
معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری کا گھناؤنا واقعہ ہفتہ کی شب پیش آیا تھا۔ ملزم وکاس مہتو تالاب کنارے کھیل رہی 3 بچیوں میں سے متاثرہ کو جبراً اپنے ساتھ لے گیا۔ ساتھ کھیل رہی دیگر بچیوں نے وکاس کو دیکھا تھا جب وہ جبراً بچی کو اٹھا کر لے گیا۔ لیکن پڑوسی ہونے کی وجہ سے کسی انہونی کا شبہ نہیں ہوا۔ جب بچی دیر رات تک گھر نہیں لوٹی تو گھر والوں نے اس کی تلاش شروع کی۔ تالاب کنارے کتوں کے لگاتار بھونکنے والی جگہ پر جب لوگ پہنچے تو وہاں خون سے شرابور بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ کلیدی ملزم وکاس مہتو پیشہ سے ٹمپو ڈرائیور ہے۔ وہ نشہ کا عادی ہے، جس کی وجہ سے اس کی 3 بیویاں اسے چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ فی الحال وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے۔ اتوار کی صبح جیسے ہی بچی کے قتل کی خبر پھیلی، ناراض لوگوں نے بیلا موڑ کے پاس سڑک جام کر دیا۔ مشتعل بھیڑ نے ملزم کو ان کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کوشل کمار اور ایس ایس پی جگوناتھ ریڈی کو خود محاذ سنبھالنا پڑا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کر بھیڑ کو منتشر کیا اور علاقہ میں امن کی بحالی ہوئی۔
ایس ڈی پی او راجیو کمار کی قیادت میں پولیس نے اتوار کی دیر شب چھاپہ ماری کر 6 نامزد ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ دربھنگہ کے ایس ایس پی جگوناتھ ریڈی نے بتایا کہ علاقہ میں اب حالات پوری طرح معمول پر اور پُرامن ہے۔ لاش کی آخری رسومات ادا ہو گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد جلد ہی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔ پولیس عدالت سے اسپیڈی ٹرائل کی گزارش کرے گی تاکہ ملزم کو جلد از جلد سخت سزا دلائی جا سکے۔ یونیورسٹی تھانہ انچارج سدھیر کمار کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ دیگر شورش پسندوں کی شناخت کر ان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔