بہار نتائج: نتیش کی قیادت والے این ڈی اے کو ملیں 125 سیٹیں، مہاگٹھ بندھن 110 تک محدود

بہار میں این ڈی اے نے 125 سیٹیں جیت کر اکثریت کا ہدف حاصل کر لیا ہے، جبکہ بی جے پی تقریباً دو دہائیوں کے بعد این ڈی اے میں جے ڈی یو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑی پارٹی بننے میں کامیاب رہی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: الیکشن کمیشن نے بہار اسمبلی کی تمام 243 سیٹوں کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ حتمی اعداد و شمار کے مطابق بہار میں ایک بار پھر نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی کے اتحاد این ڈی اے کے کھاتے میں 125 سیٹیں آئی ہیں جوکہ اکثریت کے ہدف 122 سے تین زیادہ ہیں جبکہ شروعاتی رجحانوں میں آگے چل رہا آر جے ڈی، کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کا مہاگٹھ بندھن 110 سیٹوں تک ہی محدود رہ گیا۔

این ڈی اے کی اہم اتحادی بی جے پی کے کھاتے میں 74 سیٹیں آئی ہیں اور بی جے پی اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ این ڈی اے کی دوسری جماعتوں کی بات کریں تو جے ڈی یو کو 43، وی آئی پی (وکاسشیل انسان پارٹی) کو 4 اور جیتن رام مانجھی کی ہم کو 4 سیٹیں ملی ہیں۔

وہیں، مہاگٹھ بندھن میں آر جے ڈی کو 75 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں، کانگریس کو 19 جبکہ بایاں محاذ نے 16 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کو بہار کا اقتدار تو حاصل نہیں ہو سکا، تاہم تیجسوی کی قیادت والی آر جے ڈی ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

ووٹ فیصد پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ ووٹ شیئر 23.1 فیصد آر جے ڈی کے کھاتے میں گیا۔ وہیں کاننگریس کے حصہ میں 9.48 فیصد جبکہ لیفٹ کے حصہ میں 1.48 فیصد ووٹ گئے۔ وہیں این ڈی اے میں بی جے پی کو 19.46 فیصد اور جے ڈی یو کو 15.38 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

حتمی نتائج کے بعد جماعتوں کی صورت حال

این ڈی اے کو 125 سیٹیں حاصل ہوئیں

بی جے پی۔ 74

جے ڈی یو ۔ 43

وکاسشیل انسان پارٹی ۔ 4

ہندوستانی عوام مورچہ ۔ 4

مہاگٹھ بندھن کو 110 سیٹیں حاصل ہوئیں

آر جے ڈی ۔ 75

کانگریس ۔ 19

سی پی آئی مالے ۔ 12

سی پی ایم ۔ 2

سی پی آئی ۔ 2

وہیں، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 5، بہوجن سماج پارٹی نے ایک، لوک جن شکتی پارٹی نے ایک نشست حاصل کی جبکہ آزاد امیدواروں کو ایک نشست حاصل ہوئی۔

آر جے ڈی بہار کی سب سے بڑی پارٹی، بی جے پی دوسرے مقام پر

اسمبلی انتخابات 2015 میں آر جے ڈی-کانگریس-جے ڈی یو کے مہاگٹھ بندھن نے بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے کو شکست دی تھی۔ لالو پرساد یادو کی پارٹی آر جے ڈی نے سب سے زیادہ 80 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے 71 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو 53، کانگریس کو 27، ایل جے پی کو 2، آر ایل ایس پی کو 2، ہم کو ایک اور دیگر کو 7 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔

اسمبلی انتخابات 2020 میں جے ڈی یو کو 28، آر جے ڈی کو 5، کانگریس کو 8، ایل جے پی نے ایک نشستوں کا نقصان ہوا ہے۔ وہیں، بی جے پی کو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 21 نشستوں کا فائدہ ہوا ہے۔

این ڈی اے کا ووٹ فیصد کم ہوا

بہار انتخابات میں بی جے پی تقریباً دو دہائیوں کے بعد این ڈی اے میں جے ڈی یو کو پیچھے چھوڑ کر ایک سینئر حلیف بن گئی ہے۔ تاہم، 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے مقابلہ میں این ڈی اے کے ووٹوں کی شرح میں کمی آئی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (جس میں ایل جے پی بھی شامل ہے) کو 40 میں سے 39 نشستیں اور 53 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

ایل جے پی نے اکیلے بہار کے انتخابات میں حصہ لیا اور اسے چھ فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔ اس بار وی آئی پی اور ہم این ڈی اے کا حصہ بن گئی ہیں۔ این ڈی اے (بی جے پی، جے ڈی یو، ہم اور وی آئی پی) کا مشترکہ ووٹ فیصد 40 فیصد سے کم ہے۔ وہیں، آر جے ڈی کی زیرقیادت مہاگٹھ بندھن کو تقریباً 37 فیصد ووٹ ملے۔ لوک سبھا انتخابات میں جے ڈی یو کا ووٹ فیصد 21.81 تھا جبکہ اسمبلی انتخابات میں یہ محض 15 فیصد تھا۔ عام انتخابات میں بی جے پی کے ووٹوں کی شرح 23.58 فیصد اور اسمبلی انتخابات میں قریب 20 فیصد تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next