اب بہار میں بھی ’کھیلا ہوبے‘، آر جے ڈی اور جنتا دل یو میں نزدیکیاں بڑھنے سے ہلچل

بہار میں اہم اپوزیشن پارٹی ذات پر مبنی مردم شماری کے ذریعہ برسراقتدار جنتا دل یو سے نزدیکیاں بڑھانے میں مصروف ہے، آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ نے جنتا دل یو کو ’کھلا آفر‘ دے دیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار میں اہم اپوزیشن پارٹی ذات پر مبنی مردم شماری کے ذریعہ برسراقتدار جنتا دل یونائٹیڈ سے نزدیکیاں بڑھانے کی کوششیں کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ نے جنتا دل یو کو اس معاملے میں ساتھ دینے کا وعدہ کر ساتھ آنے کا ’کھلا آفر‘ دے دیا ہے۔ آر جے ڈی ترجمان مرتیونجے تیواری بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ کھرماس کے بعد یعنی 14 جنوری کے بعد بہار کی سیاست میں ’کھیلا ہونا‘ طے ہے۔ ایسے میں اب سب کی نظر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر مرکوز ہے۔

آر جے ڈی کے قومی نائب صدر اور سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے جمعہ کو آئی اے این ایس سے کہا کہ ’’نجی طور پر انھیں خوشی ہوگی کہ نتیش بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر چلے آئیں۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ تیجسوی یادو نے انھیں ایوان کے باہر اور ایوان کے اندر ساتھ دینے کی گارنٹی دی ہے۔‘‘ تیواری کہتے ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری کوئی آج کا ایشو نہیں ہے۔ لالو پرساد، شرد یادو اور ملائم سنگھ یادو پہلے بھی اس ایشو کو اٹھاتے رہے ہیں۔ا س وقت نتیش کمار ان کے ساتھ ذات پر مبنی مردم شماری کے پیروکار رہے تھے۔ نتیش آج بھی مختلف اسٹیج سے یہ کہہ چکے ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری ملک کے مفاد میں ہے۔ ایسے میں وہ بہار کے کل جماعتی نمائندہ وفد کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے مل بھی چکے ہیں۔ اب اگر وہ بی جے پی کی ناراضگی کے سبب ایسا نہیں کر پاتے ہیں تو یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔


آر جے ڈی ریاستی صدر جگدانند سنگھ جمعرات کو ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ بہار کے مفاد میں اٹھائے گئے ایشوز پر آر جے ڈی ہمیشہ جنتا دل یو کے ساتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری پر نتیش کے ساتھ آر جے ڈی کھڑا رہے گا، لیکن نتیش کی معاون پارٹیاں ذات پر مبنی مردم شماری پر الگ رائے رکھ رہی ہیں۔ جو وزراء نتیش کمار کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے، اسے ہٹا دینا چاہیے۔ یہ وزیر اعلیٰ کے حلقہ اختیار میں ہے۔ بہار کے مفاد کی بات جہاں بھی ہوگی، وہاں ان کی پارٹی نتیش کمار کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

دوسری طرف آر جے ڈی ترجمان مرتیونجے تیواری دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کھرماس کے بعد بہار کی سیاست میں کھیلا ہونا طے ہے۔ آر جے ڈی کے ان لیڈروں کے بیانات کو غور سے دیکھا جائے تو مانا جا رہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری میں بی جے پی اور جنتا دل یو کو آمنے سامنے دیکھ آر جے ڈی نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔


جنتا دل یو کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر اوپندر کشواہا نے آر جے ڈی لیڈر جگدانند سنگھ کے دیے گئے آفر کے لیے شکریہ ضرور کہا ہے، لیکن انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی بی جے پی ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کے مسئلہ پر غور کرے گی۔

آر جے ڈی کے ذریعہ گزشتہ اسمبلی انتخاب کے بعد سے ہی نتیش حکومت کے گرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال 15 اگست کو تیجسوی یادو کے ذریعہ گاندھی میدان میں پرچم کشائی کے دعوے بھی کیے گئے تھے۔ آر جے ڈی رکن اسمبلی بھائی ویریندر نے کہا تھا کہ بہار این ڈی اے میں کھیلا ہو گیا ہے اور تیجسوی ہی 15 اگست کو گاندھی میدان میں پرچم لہرائیں گے۔ گزشتہ سال ریاست کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب کے پہلے بھی انتخاب کے بعد آر جے ڈی کی جانب سے تیجسوی کی حکومت بنوانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ انتخابی نتائج کے بعد حالانکہ دونوں سیٹوں پر آر جے ڈی کی شکست ہوئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔