بہار اسمبلی انتخاب: لالو اور نتیش کو ایک بار پھر ساتھ لانے کی کوشش میں ’پی کے‘!

بہار میں اسمبلی انتخاب 2020 میں ہونا ہے اور اس کے لیے سبھی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ خبر گرم ہے کہ نتیش کمار بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر ایک بار پھر لالو سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

2020 میں بہار اسمبلی انتخاب ہونا ہے، لیکن ابھی سے بحث گرم ہے کہ نتیش کمار بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر ایک بار پھر سے مہاگٹھ بندھن کا دامن تھام سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کہا جا رہا ہے کہ اس الیکشن کی پالیسی تیار کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر پرشانت کشور کو دی جا سکتی ہے۔ دراصل طویل مدت کے بعد جھارکھنڈ میں نتیش کمار کے ساتھ انتخابی اسٹیج پر پرشانت کشور یعنی ’پی کے‘ نظر آئے۔ بہار جنتا دل یو کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ کی باتوں پر یقین کریں تو وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں وہ جنتا دل یو کی اسٹریٹجی تیار کرنے جا رہے ہیں۔

جنتا دل یو لیڈر وششٹھ نارائن سنگھ نے ہندی نیوز چینل ’نیوز 18‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پرشانت کشور جنتا دل یو کے قومی نائب صدر ہیں۔ جب پوری پارٹی سال 2020 میں الیکشن لڑے گی تو یقینی طور پر وہ بھی پارٹی کے لیے کام کریں گے۔‘‘

دوسری طرف بہار اسمبلی الیکشن میں ’پی کے‘ کی انٹری کی خبر سے بی جے پی میں ہلچل شروع ہو گئی ہے۔ حالانکہ بی جے پی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ الیکشن میں پی کے کوئی فیکٹر نہیں ہوں گے۔ پی کے سے متعلق بی جے پی بھلے ہی اطمینان میں ہونے کی بات کر رہی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہی تھا کہ سال 2015 میں مخالف لالو یادو اور نتیش کمار ایک ساتھ آئے تھے۔ حالانکہ ابھی تک نہ تو جنتا دل یو اور نہ ہی آر جے ڈی کی طرف سے اتحاد کو لے کر کوئی مثبت اشارہ ملا ہے۔

بہر حال، سیاست کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنتا دل یو پرشانت کشور کو بہار کی سیاست میں پھر سے سرگرم کر بی جے پی پر دباؤ بنانے کی کوشش میں ہے۔ حالانکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ان کے آنے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

next