بہار: حراست میں موت پر ہنگامہ، پُر تشدد احتجاج کے دوران خاتون کانسٹیبل ہلاک، کئی پولیس اہلکار زخمی

کانسٹیبل کانتی دیوی کو اس وقت گاڑی نے ٹکر مار دی جب وہ بھیڑ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اسپتال جاتے وقت ان کی موت ہو گئی

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

جہان آباد: عدالتی حراست میں ایک شخص کی موت کے خلاف بہار کے جہان آباد میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز یہاں پر تشدد مظاہرہ ہوا اور مشتعل عوام نے نعرے بازی کی۔ زبردست احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس پر پر پتھربازی کی، اس کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کی۔ اس دوران بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی ایک خاتون کانسٹیبل گاڑی سے ٹکرا گئیں۔ اس واقعہ میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

سب ڈویژنل پولیس آفیسر اشوک کمار پانڈے نے بتایا کہ ضلع کے پارس بگہا پولیس اسٹیشن کے تحت پیش آنے والے واقعہ کی وجہ سے مصروف جہان آباد - اروول شاہراہ کئی گھنٹے بند رہی۔ انہوں نے کہا، "شراب فروخت کرنے میں ملوث گووند مانجھی نامی شخص کو کچھ عرصہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، جس کی موت ہو گئی تھی۔ اس پر ہجوم سخت برہم تھا۔ انہیں (مانجھی) ضلع اورنگ آباد میں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا اور جیل میں رکھا گیا تھا۔‘‘


بہار میں چھ سالوں سے شراب کی فروخت اور کھپت پر مکمل پابندی ہے۔ پانڈے نے کہا، “مانجھی کا جمعہ کے روز جیل میں انتقال ہوا۔ جونہی یہ خبر یہاں پہنچی، اس کے گاؤں کے رہائشی شاہراہ پر بیٹھ گئے اور الزام لگایا کہ اس کی موت پار پیٹ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جب پولیس ٹیم نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی تو وہ تشدد پر آمادہ ہو گئے۔‘‘

ایس ڈی پی او نے بتایا کہ کانسٹیبل کانتی دیوی کو ایک گاڑی نے اس وقت ٹکر مار دی جب وہ بھیڑ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھیں اور اسپتال جاتے ہوئے انہوں نے دم توڑ دیا۔ پانڈے نے کہا ، ’’مظاہرین نے بھاری پتھراؤ کیا اور بغیر لائسنس والے ہتھیاروں سے کچھ گولیاں چلائیں، جس کے سبب متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ ہم نے اس سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔