دہلی کے ایمس میں اب تک کی سب سے بڑی آتشزدگی، اسباب نامعلوم!

آگ ایمس کے تربیتی شعبے کی دوسری منزل سے شروع ہوئی گی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شدید شکل اختیار کرلی۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ملک کے معروف اسپتال آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں سنیچر کے روز شام پانچ بجے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے تربیتی شعبے میں کل جو آگ لگی اس میں کوئی زخمی تو نہیں ہوا لیکن کئی اہم سیمپل وغیر آگ کی نذر ہو گئے ۔محکمہ فائر بریگیڈ کے ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تقریباً چار بجکر 55 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی اور فوراً ہی فائر بریگیڈ کی 34 گاڑیاں جائے واقعہ کے لئے روانہ کردی گئی ۔ آگ ایمس کے تربیتی شعبے کی دوسری منزل سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شدید شکل اختیار کرلی۔آگ دیکھتے ہی دیکھتے پانچوی منزل تک پھیل گئی اور پانچویں منزل میں ائیر کنڈیشنر کے ایک سسٹم میں زبردست دھماکہ ہوا۔

آگ لگنے کے کچھ ہی منٹوں میں فائر بریگیڈ ی کی گاڑیاں اور راحتی دستہ وہاں پہنچ گیا۔ محکمہ فائر بریگیڈ اور سلامتی حفاظتی اہلکاروں نے لوگوں کو وہاں سے نکالنے میں کافی مستعدی سے کا مظاہرہ کیا۔ اس منزل پر ٹرینی ڈاکٹروں کے رہنے کے کمرے اور لباریٹری ہیں۔ اس عمارت میں مریضوں کے وارڈ نہیں ہیں۔آگ کے اسباب کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لیکن ایسا سمجھا جارہا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہوگا۔

یک ریزیڈنٹ ڈاکٹر جو ایمس میں گزشتہ تیس سال سے کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایمس میں یہ اب تک کا سب سے بڑا آگ لگنے والا حادثہ ہے۔آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ نے 32 مریضوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ۔یہاں پر سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی 9 اگست سے ایمس کی انتہائی نگہداشت والی یونٹ میں داخل ہیں۔ ان کی حالت نازک ہے۔ اس وجہ سے ایمس میں معزز شخصیات کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر رام ناتھ کووند اور وزیر داخلہ امت شاہ کے علاوہ اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ جمعہ کے روز مسٹر جیٹلی کی عیادت کے لئے ایمس آئے تھے۔ اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایاوتی کے علاوہ آج متعدد مرکزی وزرا نے بھی ایمس جاکر مسٹر جیٹلی کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

Published: 18 Aug 2019, 7:00 AM