مرکزی حکومت کو نہیں سونپا جائے گا بھیما-کوریگاؤں کیس، مہاراشٹر حکومت کا فیصلہ

بھیما-کوریگاؤں معاملہ کو مرکزی حکومت کے سپرد کیے جانے سے متعلق قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بھیما-کوریگاؤں معاملہ پر ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھیما-کوریگاؤں کیس مرکزی حکومت کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایلگر پریشد معاملہ اور بھیما-کوریگاؤں معاملہ 2 الگ الگ چیزیں ہیں۔ بھیما-کوریگاؤں معاملہ دلتوں سے متعلق ہے اور اس سلسلے میں جانچ مرکزی حکومت کو نہیں دی گئی ہے اور اسے مرکز کو سپرد کرنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ مرکز نے ایلگر پریشد معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے میڈیا کو بتایا کہ ’’دلت بھائیوں کا معاملہ بھیما-کوریگاؤں سے جڑا ہوا ہے۔ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ ہم دلتوں کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ ایلگر پریشد اور بھیما-کوریگاؤں معاملہ آپس میں جڑا ہوا نہیں ہے اور برائے کرم کسی طرح کی غلط فہمی کو نہ پھیلایا جائے۔‘‘

این آر سی کے معاملے پر بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے میڈیا کے سامنے اپنا نظریہ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر این آر سی نافذ کیا جاتا ہے تو یہ صرف ہندو اور مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گا بلکہ قبائلیوں کو بھی متاثر کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکز نے این آر سی کے متعلق اب تک کوئی قدم نہیں بڑھایا ہے۔ این پی آر اور این آر سی کو جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ این پی آر مردم شماری ہے اور میں نہیں مانتا کہ اس سے کوئی منفی اثر پڑے گا، کیونکہ یہ ہر دس سال میں ہوتا ہے۔

دوسری طرف این سی پی نے بھیما-کوریگاؤں معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شرد پوار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ پولس اہلکاروں کے رویہ پر شبہ ہے، اس لیے اس معاملے میں پولس کے کردار کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔

next