اعظم خان کو 87ویں کیس میں بھی ملی ضمانت، لیکن جیل سے نہیں ہوگی رہائی

اعظم خان کو اب تک کتاب چوری، بکری چوری، بھینس چوری، جلعسازی اور بجلی چوری سمیت 87 معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے، حالانکہ جیل سے رہا ہونے کے لیے انھیں مزید ایک معاملے میں ضمانت چاہیے۔

اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے سیتاپور کی جیل میں فروری 2020 سے بند سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی محمد اعظم خان کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو بڑی راحت دیتے ہوئے 87ویں معاملے میں بھی ضمانت دے دی، حالانکہ گزشتہ ہفتے درج ایک نئے کیس کی وجہ سے انھیں ابھی جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اعظم خان کو تقریباً 26 مہینے کی مدت کے بعد ضمانت دی ہے۔ وہ فروری 2020 سے سیتاپور کی جیل میں بند ہیں۔ محمد اعظم خان کو اب تک کتاب چوری، بکری چوری، بھینس چوری، زمین قبضہ، جعلسازی اور بجلی چوری سمیت 87 معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اعظم خان کو 87ویں معاملے میں ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نصیب نہیں ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ گزشتہ ہفتہ فرضی دستاویزوں پر کسی ادارہ کو منظوری دینے کے معاملے میں ان کے خلاف ایک نیا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اس لیے جیل سے رہا ہونے کے لیے پہلے انھیں گزشتہ ہفتہ ان کے خلاف درج 88ویں معاملے میں ضمانت لینی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔