سماجی کارکن میدھا پاٹکر کو ہتک عزت معاملہ میں بڑی راحت، ساکیت کورٹ نے کیا بری

ساکیت کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ راگھو شرما نے کہا کہ ’’استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ 2006 میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران میدھا پاٹکر نے مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے تھے۔‘‘

میدھا پاٹکر، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی کی ساکیت عدالت نے سماجی کارکن میدھا پاٹکر کو مجرمانہ ہتک عزت معاملہ میں بڑی راحت دیتے ہوئے بری کر دیا۔ یہ معاملہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ساکیت کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ راگھو شرما نے کہا کہ ’’استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ 2006 میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران میدھا پاٹکر نے مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے تھے۔‘‘ عدالت کے مطابق شکایت کنندہ کی جانب سے قانونی طور پر کوئی مستند اور ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس سے الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ یہ مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت وی کے سکسینہ نے اس وقت درج کرائی تھی، جب وہ ’نیشنل کونسل فار سول لبرٹیز‘ کے صدر تھے۔


شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ میدھا پاٹکر نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ان کے خلاف ہتک آمیز تبصرہ کیا تھا۔ یہ بھی الزام تھا کہ میدھا پاٹکر نے دعویٰ کیا تھا کہ وی کے سکسینہ اور ان کے این جی او کو سردار سرور پروجیکٹ سے متعلق سول کنٹرکٹ ملے تھے۔ حالانکہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ میدھا پاٹکر مذکورہ ٹیلی ویژن پروگرام میں بطور پینلسٹ شامل ہی نہیں تھیں۔ عدالت کے مطابق پروگرام کے ٹیلی کاسٹ کے دوران صرف ان کا ایک چھوٹا سا پری-ریکارڈ ویڈیو کلپ چلایا گیا تھا، جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے اسٹیج سے یا لائیو پروگرام میں کوئی متنازعہ بیان دیا ہو۔

واضح رہے کہ ہتک عزت کا یہ معاملہ تقریباً 20 سال پرانا ہے، جب ونے کمار سکسینہ ایک سماجی تنظیم ’نیشنل کونسل فار سول لبرٹیز‘ کے سربراہ تھے۔ اس دوران میدھا پاٹکر نے ان پر کئی الزام عائد کیے تھے۔ اس کے جواب میں وی کے سکسینہ نے 2006 میں میدھا پاٹکر کے خلاف 2 ہتک عزت کے مقدمے درج کرائے تھے۔ ایک مقدمہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں کیے گئے تبصروں کے حوالے سے تھا، جبکہ دوسرا پریس بیان سے متعلق تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔