وزارت شہری ہوا بازی کا بڑا فیصلہ، پرواز میں ’پاور بینک‘ کے استعمال پر لگی پرانی پابندی اب سختی سے ہوگی نافذ

ایئرلائنس نے مسافروں کو مطلع کرنے کے لیے بورڈنگ اناؤنسمنٹ اور اِن فلائٹ بریفنگ شروع کر دی ہے۔ اگر کوئی مسافر پرواز کے دوران پاور بینک کا استعمال کرتا پایا گیا تو اسے فوراً بند کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔

پرواز، علامتی تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

اب پرواز کے دوران ’پاور بینک‘ کے استعمال پر پابندی کے قانون کو اب مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے طیاروں میں پاور بینک کا استعمال پہلے سے ہی ممنوع ہے اور اب اسے  سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ قانون پہلے سے ہی موجود تھا، لیکن اب ایئرلائنس مسافروں کو آگاہ کرنے کے لیے بورڈنگ کے وقت اور پرواز کے دوران بار بار اعلان کر رہی ہیں، تاکہ ہوا میں کسی قسم کا سیکورٹی خطرہ لاحق نہ ہو۔

واضح رہے کہ پاور بینک میں لیتھیم آئن بیٹری ہوتی ہے، جو ڈیمج ہونے، زیادہ گرم ہونے یا خرابی آنے پر خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ طیارے کے کیبن جیسی بند جگہ میں بیٹری سے منسلک چھوٹا واقعہ بھی بڑے حادثے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر وزارت شہری ہوا بازی کے ذرائع سے ایک خبر شائع کی گئی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کیبن کے اندر بیٹری کے زیادہ گرم ہونے اور دھواں نکلنے جیسے واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ قانون نہیں بنائے گئے ہیں، بلکہ پرانے قوانین کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔


موجودہ ایوی ایشن سیکورٹی قوانین کےمطابق پاور بینک کو صرف ہینڈ بیگج میں لے جانے کی اجازت ہے۔ اسے چیک اِن بیگ میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی پرواز کے دوران پاور بینک سے موبائل یا دیگر ڈیوائس چارج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایئرلائنس نے مسافروں کو مطلع کرنے کے لیے بورڈنگ اناؤنسمنٹ اور اِن فلائٹ بریفنگ شروع کر دی ہے۔ اگر کوئی مسافر پرواز کے دوران پاور بینک کا استعمال کرتا پایا گیا تو اسے فوراً بند کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔

ایسے میں مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پرواز میں سوار ہونے سے پہلے  اپنے موبائل اور دیگر ڈیوائس کو مکمل طور سے چارج کر لیں۔ جہاں سیٹ پر چارجنگ کی سہولت موجود ہو، وہاں اسی کا استعمال کریں۔ پاور بینک ساتھ لے جانا اب بھی قانونی ہے، لیکن پرواز کے دوران اس کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے مسافروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون صرف اور صرف پرواز کی حفاظت کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔