سپریم کورٹ میں دفعہ 370 کے حوالہ سے اہم فیصلہ، معاملہ آئینی بنچ کے سپرد

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (سبکدوش) حسنین مسعودی نے جموں و کشمیر کے آئینی درجہ میں مودی حکومت کے ذریعہ کی گئی تبدیلیوں کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسے آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 5 ججوں کی آئینی بنچ اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے اس سلسلے میں سماعت شروع کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے جس کے ذریعہ یہ جواب مانگا گیا ہے کہ ریاست میں مواصلات پر کب تک پابندی رہے گی۔ اس سلسلے میں مرکز کی مودی حکومت کو 7 دن میں جواب دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی اختیار دینے والی دفعہ 370 کے کئی حصوں کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ انہی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج فیصلہ سنایا کہ اب اس معاملے کو 5 ججوں کی آئینی بنچ دیکھے گی۔ سپریم کورٹ میں یہ عرضیاں جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور ریاست میں فون و انٹرنیٹ خدمات کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ پریس کی آزادی کے متعلق داخل کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (سبکدوش) حسنین مسعودی نے جموں و کشمیر کے آئینی درجہ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ کی گئی تبدیلیوں کے خلاف یہ عرضی داخل کی تھی۔ ان کے علاوہ سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل، طلبا لیڈر شہلا رشید وغیرہ نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

Published: 28 Aug 2019, 1:10 PM