گوا نائٹ کلب آتشزدگی معاملے میں لوتھرا برادران کو بڑا جھٹکا، پیشگی ضمانت کی عرضی خارج
پولیس نے لوتھرا برادران کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ ایکسائزسے لائسنس لینے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کئے اور ہیلتھ آفسر کے دستخط جعلی بنا کر این او سی تیار کیا گیا

سرخیوں میں رہے گوا نائٹ کلب آتشزدگی معاملے میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب عدالت نے کلب کے مالکان سوربھ لوتھرا اور گورو لوتھرا کی پیشگی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اس معاملے میں جعلی دستاویزات کے ذریعے لائسنس حاصل کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے گئے۔ 6 دسمبر 2025 کو پیش آئے اس بھیانک سانحہ میں 25 افراد کی موت ہوگئی تھی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واردات نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔
ماپوسا کی ایڈیشنل سیشن کورٹ نے جمعہ کو دونوں بھائیوں کی درخواستوں کو خارج کر دیا۔ ملزمین کے وکیل پراگ راؤ نے بتایا کہ عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ فی الحال دونوں ملزمین شمالی گوا کی کولولے سنٹرل جیل میں بند ہیں۔ نائٹ کلب میں آگ لگنے کے بعد وہ تھائی لینڈ فرار ہو گئے تھے لیکن 17 دسمبر کو انہیں وہاں سے ڈیپورٹ کرکے ہندوستان لایا گیا تھا۔
ماپوسا پولیس نے لوتھرا برادران کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ ایکسائز سے لائسنس حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کئے۔ خاص طور پر ایک ہیلتھ آفیسر کے دستخط جعلی بنا کر این او سی تیار کیا گیا اور اسی بنیاد پر کلب چلایا گیا۔ اس سلسلے میں انجونا پولیس پہلے ہی آتشزدگی واقعہ کی تحقیقات کر رہی تھی۔ اسی دوران جعلی دستاویزات کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں دستاویزات میں سنگین گڑبڑیاں پائی گئی ہیں جس سے یہ معاملہ اور بھی سنگین ہوگیا ہپے۔ چنانچہ عدالت نے بھی الزامات کو سنگین مانتے ہوئے ملزمین کو راحت دینے سے انکار کردیا۔
لوتھرا برادران کے وکیل نے کہا کہ جن دستاویزات کو جعلی قراردیا جا رہا ہے وہ پہلے ہی پولیس کے قبضے میں ہیں، اس لیے ان کی تحویل کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے مؤکلوں نے ذاتی طور پران دستاویزات کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ کلب کے ایک اور مالک اجے گپتا کو اس معاملے میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
ایسے میں لوتھرا برادران کو راحت نہ ملنے سے کیس میں واضح طور پرایک نئے موڑ کا اشارہ ملتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے ملزمین کے کردار کو زیادہ سنگین مانا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد تحقیقاتی اداروں کی جانب سے مزید سخت موقف اختیار کئے جانے کا امکان ہے۔ اس کیس میں اب توجہ مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے پر ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ معاملہ گوا میں سیکورٹی اور لائسنسنگ سسٹم کے بارے میں بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔