BHU: سنسکرت کے مسلم پروفیسر کو جان کا خطرہ، ہندو طلباء کی ناراضگی دیکھ پروفیسر روپوش

مسلم ہونے کی وجہ سے ہندو طلبا کی مخالفت کا سامنا کر رہے پروفیسر فیروز خان غمزدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے محلے میں 30 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور انھوں نے کبھی میرے سنسکرت پڑھنے پر اعتراض نہیں کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں طلبا کے ہنگامے اور احتجاج کے بعد سنسکرت ودیالیہ دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) فیکلٹی کے نئے پروفیسر فیروز خان کو روپوش ہونا پڑا ہے۔ فیروز خان کو 11 دن پہلے ایس وی ڈی وی کا پروفیسر تقرر کیا گیا تھا۔ ان کی تقرری کے خلاف ہندو طلبا کا احتجاج پچھلے ایک ہفتے سے جاری ہے اور پیر کے روز بھی انھوں نے وائس چانسلر دفتر کے پاس احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ان سب ہنگاموں کے بعد پروفیسر فیروز خان کو اپنی جان پر خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ حالت یہ ہے کہ پروفیسر خان اپنا موبائل فون بھی بند کر کے کسی نامعلوم جگہ پر روپوش ہو گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ایک مسلم ہونے کی وجہ سے اپنی مخالفت دیکھ کر پروفیسر فیروز خان بے حد پریشان ہیں۔ ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق فیروز خان ان مخالفتوں سے بے حد غمزدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب میں نے سنسکرت کی تعلیم لینی شروع کی تو کسی نے اس پر انگلی نہیں اٹھائی۔ میرے محلے میں 30 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ مسلم مذہبی پیشواؤں نے بھی میری سنسکرت کی تعلیم پر کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا۔ سماج نے بھی مجھے کبھی سنسکرت سے دور رہنے کے لیے نہیں کہا۔‘‘ راجستھان کے جے پور واقع باگرو باشندہ پروفیسر فیروز کا کہنا ہے کہ سنسکرت ادب کے بارے میں جتنی مجھے جانکاری ہے، اتنی جانکاری تو مجھے قرآن کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ میرے علاقے کے رہنے والے ہندو سماج کے لوگوں نے میرے مسلمان ہونے کے باوجود میری سنسکرت فہمی کی کئی بار تعریف کی ہے۔

پروفیسر فیروز خان شاستری (گریجویٹ)، شکشا شاستری (بی ایڈ)، آچاریہ (پوسٹ گریجویٹ) کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے 2018 میں جے پور واقع قومی سنسکرت سنستھان سے پی ایچ ڈی پوری کی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیٹ اور جے آر ایف بھی کوالیفائی کیا ہے۔ فیروز خان کے والد رمضان خان بھی سنسکرت میں گریجویٹ ہیں۔ بی ایچ یو انتظامیہ کا بھی پروفیسر فیروز خان کی تقرری کے بارے میں کہنا ہے کہ جو بھی ضروری ٹسٹ اور انٹرویو تھے، انھیں لینے کے بعد ہی فیروز خان کو یہ عہدہ دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ وضاحت کیے جانے کے باوجود ہندو طلباء کا ہنگامہ جاری ہے۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پروفیسر فیروز خان کی مخالفت کرنے والے طلبا آر ایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے جذبات اور کلچر سے جڑا نہیں ہے تو ہمیں اور ہمارے مذہب کو کیسے سمجھے گا۔ مخالفت کر رہے طلبا نے اس بات سے انکار کیا کہ مظاہرہ کے پیچھے کسی سیاسی تنظیم کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ طلبا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ قبل میں آر ایس ایس کے رکن رہ چکے ہیں۔ کچھ طلبا اے بی وی پی اور کیندریہ برہمن مہاسبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

Published: 19 Nov 2019, 4:11 PM