فیروز خان کی حمایت کرنے پر بی ایچ یو کے دلت پروفیسر پر حملہ!

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے سنسکرت کے ایک پروفیسر پر طلباء نے محض اس لئے حملہ کر دیا کیونکہ انہوں نے اپنے مسلمان ساتھی فیروز خان کی حمایت کی تھی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے سنسکرت کے ایک پروفیسر پر طلباء نے محض اس لئے حملہ کر دیا کیونکہ انہوں نے اپنے مسلمان ساتھی فیروز خان کی حمایت کی تھی۔ واضح رہے کہ فیروز خان کی طلباء اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ حملہ کا شکار ہونے والے دلت پروفیسر سنسکرت ودیا دھرم وگیان (ایس وی ڈی وی) محکمہ میں سینئر فیکلٹی ممبر ہیں، جہاں خان کی تقرری کی گئی ہے۔

پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پروفیسر شانتی لال سالوی نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’میں ایک کلاس میں بیٹھا ہوا تھا جب کچھ طلباء اندر داخل ہوئے اور مجھ سے گالی گلوچ کرنے لگے۔ انہوں نے مجھ سے فیکلٹی میں ایک مسلمان کی تقرری کی حمایت کرنا بند کرنے کو کہا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے عدم محفوظ کا احساس ہونے لگا اور میں باہر آ گیا۔ پھر کچھ طلباء نے مجھ پر پتھراؤ کیا اور بعد میں میرے ساتھ دھکا مکی کی۔ میں بچ گیا کیونکہ ایک اجنبی شخص نے مجھے اپنی اسکوٹی پر لفٹ دے دی۔‘‘ سالوی نے الزام لگایا کہ ایک ساتھی نے طلباء کو اکسایا تھا لیکن میڈیا کے سامنے اس کا نام نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے کچھ طلباء کے خلاف محکمہ کے ایک پروفیسر اور وائس چانسلر راکیش بھٹناگر سے شکایت کی ہے۔‘‘

ایک طالب علم جوکہ سالوی کو نشانہ پر نشانہ بنانے والے گروہ کا حصہ تھا، اس نے کہا پروفیسر سے صرف خان کی حمایت بند کرنے کو کہا اور ان پر کبھی حملہ نہیں کیا۔ محکمہ سنسکرت ودیا دھرم کے کچھ طلباء خان کی اس بنیاد پر تقرری کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ایک مسلمان ہندو مت کی تحریریں نہیں پڑھا سکتا، جس میں محکمہ کا نصاب بھی شامل ہے۔