کورونا: شیوراج کے دعووں کی قلعی کھول رہا بھوپال، غریب ہوئے بے حال

ایم پی میں کورونا وبا کے پیش نظر غریبوں کے لیے سہولیات کے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن صرف بھوپال میں ہی اب تک راشن نہ ملنے کی شکایت پر مبنی 9513 کال سی ایم ہیلپ لائن نمبر پر آ چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے کورونا وائرس کے ہنگاموں کے درمیان اپنی حکومت تو بنا لی اور شیوراج سنگھ چوہان نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف بھی لے لیا، لیکن ریاستی عوام کو سہولیات دینے کے اپنے وعدووں کو پورا کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے وقت مدھیہ پردیش کے عوام بری طرح پریشان ہیں اور بھوپال کے کچھ ایسے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جس نے شیوراج حکومت اور انتظامیہ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق بھوپال میں سی ایم ہیلپ لائن پر گزشتہ 16 دنوں میں تقریباً 14 ہزار 834 شکایتیں آئی ہیں اور ان میں سے 9 ہزار 513 شکایتیں وہ ہیں جن میں راشن نہیں ملنے کے تعلق سے بات کہی گئی ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کو کھانا نہیں ملنے کا بحران گہراتا جا رہا ہے اور مزدور طبقہ فاقہ کشی کے لیے مجبور ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے سختی کیے جانے کے بعد 250 سے زیادہ کمیونٹی کچن بند کیے جا چکے ہیں۔ اس کا اثر غریبوں پر بہت زیادہ پڑ رہا ہے۔


واضح رہے کہ ریاست مدھیہ پردیش میں کورونا پازیٹو معاملے لگاتار سامنے آ رہے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ نے سختی کرنی شروع کر دی ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ کورونا وائرس متاثر بھوپال، اندور اور اجین کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے کے بعد حکومت نے 15 اضلاع کے 46 علاقوں کو ہاٹ اسپاٹ قرار دیا ہے۔ لیکن اس درمیان جو بنیادی سہولتیں عوام تک پہنچائے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی پریشانیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔