مودی حکومت نے ’بِھیما کوریگاؤں تشدد‘ کی جانچ این آئی اے کو سونپی، مہاراشٹر حکومت ناراض

مہاراشٹر حکومت میں وزیر داخلہ انل دیشمکھ کا کہنا ہے کہ 2018 میں ہوئے بھیما کوریگاؤں تشدد معاملے کی جانچ بغیر ریاستی حکومت سے مشورہ لیے این آئی اے کو منتقل کیا جانا کسی طرح مناسب نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شیوسینا کے ذریعہ بی جے پی سے رشتہ توڑے جانے اور مہاراشٹر میں کانگریس و این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت سازی کے بعد سے ہی مرکز کی مودی حکومت اور مہاراشٹر حکومت کے درمیان اختلافات منظر عام پر آنے شروع ہو گئے تھے، جو اب بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تازہ معاملہ بھیما کوریگاؤں تشدد سے جڑا ہوا ہے جس کی جانچ کی ذمہ داری مرکزی حکومت نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کو دے دی ہے۔ اس فیصلے سے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ کافی ناراض ہیں اور انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2018 میں ہوئے بھیما کوریگاؤں تشدد معاملے کی جانچ بغیر ریاستی حکومت سے مشورہ لیے این آئی اے کو منتقل کیا گیا جو نامناسب ہے۔ این سی پی لیڈر اور وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے کہا کہ "میں اس فیصلے کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔"

واضح رہے کہ اب تک اس تشدد معاملہ کی جانچ پونے پولس کر رہی تھی اور یہی وجہ ہے کہ این آئی اے کو جانچ سونپے جانے کے بعد انل دیشمکھ نے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ قابل غور ہے کہ حال ہی میں این سی پی سربراہ شرد پوار نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر ایلگار کونسل کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے مرکز حکومت نے جانچ این آئی اے کو ٹرانسفر کر دیا۔

یاد رہے کہ پونے ضلع میں بھیما کوریگاؤں جنگ میموریل کے پاس یکم جنوری 2018 کو تشدد برپا ہوا تھا۔ ہر سال بڑی تعداد میں دلت یہاں آتے ہیں۔ پولس نے دعویٰ کیا تھا کہ پونے میں 31 دسمبر 2017 کو ایلگار کونسل میں اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے تشدد ہوا۔ بعد میں تیلگو شاعر ورورا راؤ اور سدھا بھاردواج سمیت لیفٹ ذہنیت والے کچھ کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بہر حال، مہاراشٹر میں کانگریس-این سی پی-شیوسینا حکومت بننے کے بعد سے بھیما کوریگاؤں تشدد معاملے کی جانچ نئے سرے سے کیے جانے کا مطالبہ برسراقتدار پارٹی کے لیڈر کر رہے ہیں۔

Published: 25 Jan 2020, 9:35 AM
next