بہار کا بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ
بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ وکیل وشال تیواری نے سی بی آئی جانچ، متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر اور ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں آزاد کمیٹی بنانے کی مانگ کی ہے

نئی دہلی: بہار کے بھوجپور ضلع میں بھرت بھوشن تیواری کی انکاؤنٹر میں ہوئی موت کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل وشال تیواری نے اس معاملے میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے مرکزی جانچ بیورو سے غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھرت بھوشن تیواری کی موت ایک مبینہ فرضی انکاؤنٹر کا نتیجہ ہے، اس لیے پورے معاملے کی آزاد اور شفاف جانچ ضروری ہے۔ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور جانچ کی ذمہ داری مرکزی جانچ بیورو کے سپرد کی جائے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد ماہر کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس پورے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کرے۔ وشال تیواری کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ نہ ہوئی تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل اور بھوجپوری فلموں کے اداکار پون سنگھ نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھوجپور کے گاؤں بیلوٹی کے رہنے والے بھرت بھوشن تیواری عوامی مسائل کے حل اور غریب، محروم اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے سرگرم تھے۔
پون سنگھ نے کہا کہ بھرت بھوشن تیواری ایک حساس اور بیدار سماجی کارکن تھے، جنہوں نے ہمیشہ غریبوں، بے سہارا افراد، دلتوں اور ضرورت مند لوگوں کی آواز بلند کی۔ کورونا وبا، سیلاب اور دیگر مشکل حالات میں بھی انہوں نے سماجی خدمت کے کئی کام انجام دیے اور انتظامیہ و پولیس کے ساتھ مل کر عوامی فلاح کے لیے سرگرم رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی موت کے بعد کئی سوالات سامنے آئے ہیں اور اگر مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات اور ویڈیوز درست ہیں تو پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور منصفانہ جانچ کرائی جانا ضروری ہے، تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
