قومی

ہوشیار! جلد بند ہو سکتے ہیں سوا لاکھ ’اے ٹی ایم‘، ہزاروں نوکریاں جانے کا خدشہ

خبر ہے کہ اس ماہ کے آخر تک ملک کے آدھے سے زیادہ اے ٹی ایم بند ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کنفیڈریشن آف اے ٹی ایم انڈسٹری (CATMi) کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ملک کے آدھے اے ٹی ایم بند کیے جا سکتے ہیں۔ انڈسٹری نے اے ٹی ایم بند کرنے کی وجہ تکنیک بتائی ہے، اس نے کہا ہے کہ یہ اے ٹی ایم کو اپ گریڈ کرنے کے لئے ضروری ہے۔ واضح رہے ملک میں 2.38 لاکھ اے ٹی ایم ہیں جس میں سے قریب 1.13 لاکھ اے ٹی ایم بند ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بالکل صاف ہے کہ اگر اتنے اے ٹی ایم ایک ساتھ بند کیے گئے تو ہزاروں افراد جو اے ٹی ایم سے جڑے ہوئے ہیں وہ سب بے روزگار ہو جائیں گے۔ واضح رہے بڑے پیمانہ پر اے ٹی ایم پر کام کر رہے چوکیدار و دیگر جڑے افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس بات کا خدشہ CATMi گزشتہ سال بھی کر چکی ہے۔

کنفیڈریشن آف اے ٹی ایم انڈسٹری CATMi نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو اے ٹی ایم بند ہو سکتے ہیں ان میں سے زیادہ تر غیر شہری علاقوں کے ہوں گے۔ اس کی وجہ سے نقدی لین دین میں پریشانی ہو سکتی ہے۔ یہ بات کو ذہن میں رکھنی ہوگی کہ سرکاری سبسڈی لینے والے افراد بھی اے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں۔ CATMi نے کہا ہے کہ اے ٹی ایم ہارڈ وئیر، سافٹ وئیر سمیت حال میں ہوئی ریگولیٹری تبدیلی، نقدی منیجمنٹ کو لے کر جاری ہوئے احکامات، کیش لوڈنگ کے کیسٹ، سوئپ کرنے کے طریقہ سے اے ٹی ایم کو آپریٹ کرنا نقصاندہ ہو جائے گا، اس لئے انہیں بند کرنا مجبوری ہے۔ اس کا اے ٹی ایم انڈسٹری پر 3000 کروڑ روپے کا مالی بوجھ پڑے گا۔ CATMi نے کہا ہے کہ اس کے بعد اے ٹی ایم خدمات بہتر ہو جائیں گی۔ اے ٹی ایم سروس سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو گا۔