اچھی فطرت اچھے سماج کے لئے ایک لازمی شرط ...خرم رضا

اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کس کا عقیدہ کیا ہے، اصل مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنے عقیدے کو نہ صرف منوانے کی کوشش کرے بلکہ اس کے لئے شدت بھی اختیار کر لے۔

سید خرم رضا

اتم سین گپتا میرے سینئر اور آفس کے ساتھی ہیں، دی ٹائمس آف انڈیا، ٹیلی گراف، ٹریبیون، آوٹ لک وغیرہ میں اعلی عہدوں پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ صحافت میں وسیع تجربہ کے ساتھ ساتھ ایک کھلے ذہن کے مالک ہیں جو کسی بھی طرح کی شدت پسند رویہ اور سیاست کے خلاف اپنا قلم اٹھانے میں جھجکتے نہیں ہیں۔ ان کی اہلیہ ٹیچر ہیں اور بیٹی کی شادی پیرس میں ہوئی ہے، اس کی دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ سماج میں جو کامیابی کے پیمانہ ہوتے ہیں اس لحاذ سے وہ کامیابی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ خدا جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے۔ ویسے دفتر میں کسی بھی مذہب کی تقریب ہو وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ وہ دفتر میں رمضان کے مہینے میں افطار کرتے ہیں، درگا پوجا پر مٹھائی بانٹتے ہیں اور کرسمس پر کیک بھی کاٹتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے کھانے اور پینے سے ان کو پرہیز نہیں ہے۔

میرے فٹبال کلب کے سینئر وائس پریسیڈنٹ ڈاکٹر سریش کمار شرما ہیں جن کو ہم ڈاکٹر شرما کہہ کر بلاتے ہیں۔ میں اس کلب میں سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہا ہوں، میں ڈاکٹر شرما کی بہت عزت کرتا ہوں اور عزت صرف اس لئے نہیں کرتا کہ وہ مجھ سے عمر میں بڑے ہیں بلکہ اس لئے زیادہ کرتا ہوں کہ وہ ایک نیک دل، مخلص اور مثبت کردار کے مالک ہیں۔ ان کے دو بچے راجو اور پریتی ہیں۔ دونوں بچے ہر طرح سے کامیاب ہیں اور ان کے بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شرما انتہائی مذہبی شخص ہیں، بغیر پوجا اور اسنان (غسل) کے گھر سے نہیں نکلتے، جس جگہ وہ رہتے ہیں وہاں کے مندر کی تمام تر ذمہ داریاں ان پر ہیں، نان ویج یا شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا، مذہب کا کوئی بھی کام ہو اس میں پیش پیش رہتے ہیں۔

ڈاکٹر فرحت حسین میرے عزیز ہیں اور انہوں نے بھی انتہائی کامیاب زندگی گزاری ہے۔ کامرس میں ایم اے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور لکچرار، پروفیسر کا سفر طے کرنے کے بعد اتر پردیش کے ڈگری کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ بچے اور داماد سبھی کامیاب اور سماج میں ایک اچھا مقام رکھتے ہیں۔ جوانی سے ہی ذہن مذہبی رہا اور آج بھی مذہبی کاموں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن سماجی تقاضو ں کو بھی انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ سماج کی تمام برائیوں سے دور اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں پوری طرح ایماندار ڈاکٹر فرحت کی زندگی بھی کامیابی کی زمرے میں آتی ہے۔

سماج میں ایسی انگنت شخصیات ہیں جن کو کامیابی کے اس زمرے میں دیکھا جا سکتا ہے بس یہ وہ لوگ ہیں جن کو میں نے قریب سے دیکھا ہے۔ اتم سین گپتا، ڈاکٹر شرما اور ڈاکٹر فرحت حسین جہاں سماج کے لئے اثاثہ اور نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں وہیں ان تینوں کے عقائد میں زبردست فرق ہے۔ جہاں دو الگ الگ خداؤں کو مانتے ہیں یا الگ الگ انداز سے اپنے ماننے والے خدا کی عبادت کرتے ہیں، وہیں ایک ایسے بھی ہیں جو خدا کے وجود پر ہی یقین نہیں رکھتے لیکن یہ سب لوگ کامیاب ہیں اور کسی بھی سماج کے لئے اثاثہ ہیں۔ یہ اثاثہ اس لئے ہیں کیونکہ ان کی فطرت اچھی ہے، اس سے ایک بات تو صاف ہو گئی کہ عقیدہ کسی کا کوئی بھی ہو لیکن سماج کا اثاثہ ہونے کے لئے اس کی فطرت اچھی ہونا ایک لازمی شرط ہے، اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کس کا عقیدہ کیا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب جو شخص جس عقیدے کو مانتا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کے عقیدے کو سب تسلیم کریں، وہ اپنے عقیدے کو تسلیم کرانے کے لئے شدت اختیار کرتا ہے۔

جن لوگوں کو بائیں محاذ کی پالیسیوں سے عقیدت ہے اگر وہ خود کو صحیح اور سب کو غلط تسلیم کرنے لگیں گے، ہندو اگر یہ سوچنے لگیں گے کہ ہندو مذہب کے علاوہ تمام مذاہب غلط ہیں، مسلمان اگر اس پر اڑ جائیں کہ جو وہ سوچتے اور سمجھتے ہیں وہی آخر ہے یا جو لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں وہ اس کی تبلیغ کرنے لگیں کہ خدا کا وجود ہی سارے مسائل کی وجہ ہے تو اس سے سماج میں صرف ٹکراؤ ہی ہو گا خالص ہندو ریاست ہو، خالص اسلامی ریاست ہو یا وہ ریاست ہو جہاں خدا کا وجود ہی نہ مانا جاتا ہو، وہاں بھی سماج کے تمام مسائل موجود ہیں اس لئے آپ بھلے کسی بھی عقیدے کو مانیں لیکن فطرت ضرور اچھی ہونی چاہیے اور اگر یہ نہیں ہے تو سماج اچھا نہیں ہو سکتا۔ آپ دنیا، ملک، سماج، محلہ اور خاندان کے لئے جبھی اثاثہ ہو سکتے ہیں جب آپ کی فطرت اچھی ہوگی۔

Published: 6 Jan 2019, 4:39 AM